اندرون چھ ماہ آمدنی میں ریکارڈ اضافہ ، رنگاریڈی اور میڑچل اضلاع آمدنی میں سرفہرست
حیدرآباد ۔ 26 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز): ریاست تلنگانہ میں جاریہ چھ ماہ کے اختتام سے قبل ہی ریاستی محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کے ذریعہ حکومت کو زائد از تین ہزار کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلے چھ ماہ میں دوران دو ہزار کروڑ روپئے سے بھی کم آمدنی حاصل ہوئی تھی لیکن جاریہ مالیاتی سال کے دوران ریاستی محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کو ’ آل ٹائم ہائی ریکارڈ ‘ کے ذریعہ 3.118 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے جب کہ چھ ماہ مکمل ہونے کے لیے ایک اور ہفتہ باقی رہنے کے باوجود ریکارڈ تعداد میں آمدنی کا حصول ایک انتہائی خوش آئند کارکردگی تصور کی جارہی ہے ۔ ماہ ستمبر میں محکمہ کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور اس طرح صرف ایک ماہ ستمبر کے دوران ہی 398 کروڑ روپیوں سے بھی زائد کی آمدنی ہوئی ۔ جب کہ 13 ستمبر تک ہی ریاست بھر میں ریاستی محکمہ رجسٹریشن کی آمدنی 2951 کروڑ روپئے سے زائد رہی ۔ لیکن یہی آمدنی 25 ستمبر تک 3118 ہزار کروڑ روپیوں سے زائد ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ جملہ 12 یوم ( یعنی 13 تا 25 ستمبر کے دوران ) کے دوران دو اتوار ، گنیش چتورتھی تقریب کی تعطیلات نکالدینے پر صرف 9 یوم میں ہی 167 کروڑ روپیے کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس طرح ایک اندازہ کے مطابق محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کو 20 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہونے پر زائد از 5 ہزار ڈاکیومنٹس ( دستاویزات ) کے رجسٹریشن انجام پا رہے ہیں ۔ رجسٹریشن کے اضلاع کی اساس کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ریاست کی جملہ آمدنی میں نصف آمدنی ضلع رنگاریڈی اور میڑچل اضلاع سے حاصل ہوئی ہے جب کہ ضلع بھونگیر (یادادری ) سے جاریہ سال اب تک ریاستی محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کو صرف 70 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے جب کہ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کو سب سے کم آمدنی اضلاع کمرم بھیم ، جیاشنکر بھوپال پلی اور بھدرادری (بھدرا چلم ) سے حاصل ہوئی ہے ۔ ریاستی محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کے ذرائع نے مزید بتایا کہ جاریہ ماہ ستمبر کے اختتام تک محکمہ کی آمدنی میں توقع سے بھی زائد ہونے کا قوی امکان پایا جاتا ہے ۔۔
تعمیر ملت کی مجلس استقبالیہ کا