محکمہ مال میں وزیر کے دفتر سے نچلے درجے کے ملازم تک بدعنوانیاں

   

ہریش راؤ کا اچانک تحصیلدار دفتر کا دورہ ، انتظامی بے ضابطگیوں پر ناراضگی ظاہر کی
حیدرآباد ۔ 26 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ محکمہ مال میں وزیر کے دفتر سے نچلے درجے کے ملازم تک بدعنوانیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں ۔ آج ہریش راؤ نے ضلع سدی پیٹ ہیڈکوارٹر میں تحصیلدار آفس کا اچانک دورہ کیا اور انتظامی بے ضابطگیوں پر سخت ناراضگی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو کانفرنس کی درخواستیں دفاتر میں زیر التواء پڑی ہیں اور عوام کو کوئی جوابداہی فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔ ہریش راؤ نے نشاندہی کی کہ دھرنی پورٹل کے تحت رجسٹریشن کے ایک ہفتے کے اندر پاس بک جاری کی جاتی تھی ۔ مگر بھوبھارتی کے نفاذ کے چھ ماہ بعد بھی کسانوں کو پاس بکس نہیں دی جارہی ہے ۔ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل سدابتیاما کو مفت نافذ کرنے کا وعدہ تھا لیکن اب ہزاروں درخواستیں زیر التواء رکھتے ہوئے کسانوں کو پریشان کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں 6 لاکھ 20 ہزار کسانوں کو سدابنیا ماپٹے دئیے گئے ۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں 9 لاکھ 26 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ۔ جو عدالتی حکم التواء کے باعث رکی رہی ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت عدالتی رکاوٹ کے باوجود حلف نامہ کے نام پر عمل آوری میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 58,000 سے زائد درخواستوں کو زیر التواء ڈال کر کسانوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ ممنوعہ اراضی کی تفصیلات آن لائن جاری نہ کرنے پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ تمام تفصیلات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھی جائے ۔ ماضی میں ممنوعہ اراضی کا تناسب 10 سے 20 فیصد تک پہونچ گیا ۔۔ 2