کورونا کی پہلی لہر کے دوران بھی ایسی ہی ہدایت دی گئی تھی ، مریضوں اور تعداد پر خاموشی کا مشورہ
حیدرآباد۔2۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) محکمہ صحت کے ملازمین اور دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور صحافیوں سے بات چیت نہ کرنے کی دوبارہ ہدایات دی جانے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے جاری کردہ زبانی ہدایات میں سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اور طبی عملہ کو صحافیوں سے رابطہ میں نہ رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ کورونا وائرس کی ابتدائی لہر کے دوران بھی اسی طرح کے احکامات جاری کئے گئے تھے اور ڈاکٹرس اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کو صحافیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔سال 2020میں جب گاندھی ہاسپٹل کو کورونا وائرس کے لئے مخصوص قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی دواخانہ میں خدما ت انجام دینے والے عملہ کو کہہ دیا گیا تھا کہ وہ صحافیوں سے رابطہ نہ کریں اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کسی قسم کی تفصیلات سے واقف کروائیں۔ بعد ازاں تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے قیام کے اقدامات کئے گئے تو اس میں خدمات انجام دینے والوں کو بھی کہا گیا تھا کہ وہ صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب نہ دیں بلکہ محکمہ صحت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے بیشتر سرکاری دواخانوں میں صحافیوں کے داخلہ پر غیر معلنہ پابندی عائد کردی گئی تھی اور دوبارہ وہی صورتحال پیدا کی جانے لگی ہے۔ ٹمس اور گاندھی ہاسپٹل میں خدما ت انجام دے رہے عملہ کو اس بات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ دواخانہ میں شریک مریضوں اور ان کی صورتحال کے علاوہ دیگر امور کے متعلق کئے جانے والے سوالات کے جواب نہ دیں ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے جونئیر ڈاکٹرس کو بھی اس بات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ دواخانہ میں زیر علاج کورونا وائرس کے مریضوں کی صورتحال کے متعلق کسی سے بات نہ کریں اور ان کی تعداد کے سلسلہ میں بھی مکمل طور پر خاموشی اختیار کی جائے۔ کورونا وائرس کی نئی قسم کے منظرعام پر آنے کے بعدمحکمہ صحت کی جانب سے اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر میں جونئیر ڈاکٹرس اور طبی عملہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے دور رکھنے کے اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔م