آنجہانی قائد نے تلنگانہ کو سگریٹ، بیڑی سے جوڑتے ہوئے تحریک کی توہین کی تھی : ہریش راؤ
حیدرآباد ۔ 10 جولائی (سیاست نیوز) ریاستی وزیرفینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ مخالف تلنگانہ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے وارثوں کیلئے تلنگانہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کانگریس اور بی جے پی اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ سداسیوپیٹ میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائی ایس شرمیلا کی جانب سے نئی پارٹی تشکیل دینے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہریش راؤ نے یاد دلایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران راج شیکھر ریڈی نے کہا تھا کہ تلنگانہ کیا سگریٹ یا بیڑی ہے جو دے دیا جائے۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تلنگانہ کی توہین کی تھی۔ تلنگانہ کے عوام ان توہین آمیز ریمارکس کو بھولے نہیں ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تلنگانہ کا پانی اور فنڈز لوٹ لیا گیا کیا اس کیلئے شرمیلا کے پارٹی کو ووٹ دیا جائے۔ راج شیکھر ریڈی نے کہا تھا کہ ملک کے 100 کروڑ عوام کی جانب سے قبول کرنے پر ہی علحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے رضامندی کا اظہارکیا جائے گا۔ جو شخص آخری سانس تک علحدہ تلنگانہ ریاست کی مخالفت کرچکا ہے، اس کے نام سے تشکیل پانے والی نئی سیاسی جماعت کو تلنگانہ کے عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔ ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی چنتاپربھاکر کے زیراہتمام منعقدہ اس اجلاس میں کانگریس کے کئی قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ ہریش راؤ نے کانگریس کے مقامی رکن اسمبلی جگاریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی ہائی کمان کیلئے کبھی سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی خاطر تلنگانہ تحریک چلانے والوں کی مخالفت کرچکے ہیں۔ کانگریس کے قائدین عوام کے درمیان کم اور گاندھی بھون میں زیادہ وقت گذارتے ہیں۔ اسمبلی حلقہ سنگاریڈی کے رکن اسمبلی کبھی عوام کو دستیاب ہی نہیں رہے اور نہ ہی کسی کا فون اٹھاتے ہیں جس سے کانگریس کے قائدین اور کارکن ہی بدظن ہوگئے ہیں۔ کانگریس کے قائدین کو اپوزیشن کا بھی عہدہ نہیں ہے مگر وہ اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ بی جے پی بھی اسی راہ پر چل پڑی ہے جبکہ تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ کانگریس نے اپنے 70 سالہ دورحکومت میں جو کام نہیں کئے وہ ٹی آر ایس حکومت نے 7 سال میں کرکے دکھائے ہیں۔