عوام کے روبرو جذباتی تقاریر ، عملی اقدامات کرنے میں ناکام ، آلیر انکاونٹر پر بھی خاموشی
حیدرآباد۔7اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے اختیار کی جانے والی مخالف مسلم پالیسیوں کے خلاف مسلم نمائندوں بالخصوص سیاستدانوں کا موقف کیا ہے جو ان مسلم مسائل کا استحصال کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں! بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد جو مخالف مسلم اقدامات کئے ہیں یا ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے مخالف مسلم کاروائیوں کے خلاف عوام کے میں جذباتی تقاریر کرنے والے قائدین جب اس بات کو جانتے ہیں کہ عدالت میں انہیں انصاف ملے گا تو عدالت سے رجوع ہونے سے کیوں کتراتے ہیں اور کیوں ان مسائل کا بار بار عوام کے درمیان تذکرہ کرتے ہوئے ان کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی کی خوب سراہنا ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے منظور کیا جانے والا یہ طلاق ثلاثہ بل عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دیا جائے گا کیونکہ یہ معاملہ شریعت میں مداخلت کا ہے اور اس معاملہ میں حکومت کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے لیکن ان کی اس تقریر اور عمل کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے ایوان میں تقریر اور عوامی میدان میں تقاریر پر اکتفاء کیا لیکن عدالت سے رجوع نہیں ہوئے اسی طرح اگر کشمیر سے دفعہ 370کی تنسیخ کے فیصلہ کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت بھی ان کی ایوان میں بے باکی اور عدالت میں اس فیصلہ کو چیالنج کی گنجائش کا تذکرہ کیا گیا تھا لیکن اس معاملہ میں بھی وہ عدالت سے رجوع نہیں ہوئے اور اب جبکہ وزیر داخلہ نے کولکتہ میں اپنی تقریر کے دوران این آر سی مسئلہ پر واضح طور پر کہا کہ این آر سی سے غیر مسلموں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ہندو اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو این آر سی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جس پر صدر مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے زبردست رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا کہ امیت شاہ مذہب کی بنیاد پر این آر سی کو مسترد کردیا جائے گا ۔ انہو ںنے بالواسطہ طور پر کہا کہ مذہب کی بنیاد پر ہونے والے این آر سی کو عدالت خارج کردے گی لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ اس معاملہ میں عدالت سے رجوع ہوں گے۔امیت شاہ کو سڑکوں پر منعقد ہونے والے جلسوں میں اور ٹوئیٹر پر منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اور حکومت کے ہر اس عمل پر جو مخالف مسلم ہو زبردست بیان بازی کرتے ہوئے اسد الدین اویسی مسلم مسائل کو بے باکی کے ساتھ اٹھانے والے چہرہ کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں لیکن عملی طور پر دفعہ 370کی تنسیخ اور طلاق ثلاثہ معاملہ میں عدالت سے رجوع ہونے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ریاست تلنگانہ میں آلیر انکاؤنٹر میں مارے جانے والے 5مسلم نوجوانوں کے افراد خاندان کو انصاف دلوانے کیلئے کوئی عملی اقدامات کئے گئے بلکہ آلیر انکاؤنٹر میں مسلم نوجوانوں کو گولی مارنے والوں کی اب تک نشاندہی بھی نہیں کی گئی تو انہیں سزاء دلوانے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی ۔ عوام کے درمیان جذباتی تقاریر کا فائدہ کسے حاصل ہورہا ہے عوام کے باشعور طبقہ کو اس کا مکمل اندازہ ہوتا جا رہاہے ۔