بجٹ میں غریبوں ، ایس سی، ایس ٹی اور مذہبی اقلیتوں کیلئے کوئی خاص راحت نہیں، سعادت اللہ حسینی کی پریس کانفرنس
نئی دہلی : امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقدہ پریس کانفرنس میں آج مرکز کا حالیہ بجٹ 2024-25 مدارس کے طلبہ کی اسکولوں میں جبری منتقلی اور اسرائیل پر لگام کسنے کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں غریبوں ، پسماندہ طبقات، ایس سی ، ایس ٹی اور مذہبی اقلیتوں کے لئے کوئی خاص راحت دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ صحت کے لئے جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد اور تعلیم کے لئے 6 فیصد رقم مختص ہونی چاہئے مگر یہ بالترتیب 1.88 اور 3.07 فیصد ہی ہے ۔ وزارت برائے اقلیتی امور کے لئے کل بجٹ کا صرف 0.06 فیصد ہی منظور کیا گیا ہے ۔ جبکہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے جی ڈی پی کا کم از کم 1فیصد ہونا چاہئے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ملک میں بلا سودی مائیکرو فنانس اور سود سے پاک بینکنگ نظام کو فروغ دیا جائے ۔ اس سے جہاں معیشت کو ترقی ملے گی، وہیں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور سماجی عدم مساوات میں کمی آئے گی۔براڈ کاسٹنگ سروسز ( ریگولیشن ) بل 2024 پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام خصوصاً کانٹینٹ کریٹرس میں تشویش پائی جارہی ہے ۔ اس سے سینسرشپ اور پریس پر پابندیوں کے راستے کھلنے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔ جماعت چاہتی ہے کہ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات تمام متعلقہ افراد اور اداروں کے ساتھ مل بیٹھ کر بل کی تمام شقوں پر مشاورت کرے اوراس میں مناسب ترمیم کرکے ایک جامع بل سامنے لائے۔ انہوں نے کانفرنس کے دوران اترپردیش میں مدرسوں کی شناخت اور اس کی حیثیت کو جبرا تبدیل کرنے اور طلباء کے تعلیمی امور میں مداخلت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم حاصل کرنا، نہ صرف ہر شہری کا بنیادی حق ہے ، بلکہ اس سے ایک بہتر معاشرہ بھی وجود میں آتا ہے ۔ ایسے میں حکومت یا اس کے ماتحت کسی محکمہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مدارس میں مفت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو زبردستی وہاں سے نکال کرکسی سرکاری اسکول میں داخلہ لینے پر مجبور کرے ۔ دستور کی دفعہ 30(1)میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور نظم و نسق کے بنیادی حقوق حاصل ہونے کی ضمانت دی گئی ہے ۔ اسی طرح ’آر ٹی ای‘ ایکٹ مدارس کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنا نظام آزادانہ طور پر چلائیں اور طلباء کو فائدہ پہنچائیں۔اسرائیلی بربریت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے انصاف پسند لوگ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ظلم و بربریت کے خلاف مزاحمت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 38 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک کئے جا چکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔ غزہ میں اسکولوں، اسپتالوں، امدادی کیمپوں ، اقوام متحدہ کے مشنوں ، صحافیوں، امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ فلسطینیوں کی یہ تباہی ، مہذب کہی جانے والی دنیا کی نظروں کے سامنے ہورہی ہے، مگر وہ تماشائی بنے ہوئے ہیں۔البتہ وہاں کے عوام فلسطین کے حق میں احتجاج کررہے ہیں، جماعت عوام کے حوصلوں کو سراہتی ہے ۔