کلکتہ 6جنوری (سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ نے آج اقلیتی اداروں کی انتظامی امور سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے 2008میں مغربی بنگال اسمبلی سے پاس مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ جو حکومت کے زیر انتظام چلنے والے مدرسوں میں ٹیچروں کی بحالی کیلئے آزادادارہ ہے پر روک ختم کردیا ہے ۔مغربی بنگال سروس کمیشن ایکٹ2008کی آئینی حیثیت کو بحال کرتے ہوئے عدالت عظمی نے کہا کہ اقلیتی ادارہ کو نہ صرف ٹیچروں کی بحال کرنے کے اختیارات بلکہ وہ براہ راست ٹیچروں کی بحالی کیلئے اقدامات کرسکتے ہیں۔مختلف مدرسہ کمیٹیوں نے مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ2008کے قانونی حیثیت کو کلکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اس ایکٹ کے تحت کمیشن کو مدرسوں میں خالی عہدوں پر بحالی کرنے کے اختیارات دیے گئے تھے ۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ کمیشن آرٹیکل 30کی خلاف ہے کیوں کہ آرٹیکل 30اقلیتوں کو اپنے ادارے قائم کرنے کے اختیارات کے ساتھ انتظامی امور چلانے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔نئے قانون کے تحت جن ٹیچروں کی بحالی ہوئی تھی ان لوگوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اس وقت سپریم کورٹ نے ان ٹیچروں کو عارضی راحت دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ انہیں حتمی فیصلہ آنے تک نوکری سے نہیں نکالا جائے اور انہیں تنخواہ بھی جاری کیے جائیں۔اس درمیان ٹیچروں کی بحالی کا عمل معطل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے 2,600آسامیاں خالی ہوگئی تھی۔مئی 20188میں سپریم کورٹ نے ان پوسٹ کو بھرنے کی ہدایت دی تھی۔