500 روپئے میں گیس سلینڈر ، مفت اسکولی تعلیم ، بیروزگاری بھتہ ، اسمبلی چناؤکیلئے کانگریس کا منشور
بھوپال : کانگریس نے مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں آج پارٹی منشور جاری کرتے ہوئے اسی قسم کے وعدوں اور ضمانتوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کی شروعات کرناٹک الیکشن میں ہوئی تھی۔ کانگریس نے اس کے بعد تلنگانہ میں اسی قسم کا انتخابی منشور جاری کیا۔ آج مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے آنے والے اسمبلی چناؤ کے لئے تفصیلی منشور میں کہا کہ کانگریس ریاست میں برسر اقتدار آنے پر ریاست کے تمام شہریوں کیلئے 25 لاکھ روپئے کا ہیلت انشورنس کرائے گی ، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کیلئے 27 فیصد کوٹہ رکھا جائے گا جس کا اطلاق روزگار اور مختلف شعبوں میں کیا جائے گا۔ووٹروں کے دل جیتنے کی کوشش میں ایم پی کانگریس نے اپنے 106 صفحات پر مشتمل منشور میں 59 کلیدی وعدے کئے ہیں جن میں سماج کے تمام طبقات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ 25 لاکھ کے ہیلت انشورنس کے علاوہ ریاست کے ہر شہری کیلئے حادثات کی صورت میں 10 لاکھ روپئے کا بیمہ رہے گا۔ 27 فیصد او بی سی ریزرویشن کے ذریعہ سماج کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کانگریس نے وعدہ کیا کہ اقتدار کی صورت میں مدھیہ پردیش کی طرف سے اسٹیٹ آئی پی ایل ٹیم کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے گا ۔ منشور میں کسانوں کے قرض کی معافی اور خواتین کیلئے ماہانہ اعانت کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ کرناٹک اور تلنگانہ کی طرح مدھیہ پردیش میں بھی 500 روپئے میں ایل پی جی سلینڈر فراہم کیا جائے گا ۔ کانگریس نے فری اسکول ایجوکیشن کا وعدہ بھی کیا ہے اور کہا کہ سب کیلئے معیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنائی جائے گی ۔ اولڈ پنشن اسکیم اور نوجوانوں کو بیروزگاری بھتہ بھی کانگریس منشور میں نمایاں ہے۔ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 1500 تا 3000 روپئے بھتہ دیا جائے گا ۔ 230 رکنی مدھیہ پردیش اسمبلی کیلئے 17 نومبر کو ووٹنگ مقرر ہے۔
کانگریس کی اسمبلی انتخابات کے لیے ’وچن پتر‘ کی اجرائی
مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ کے ہاتھوں دیگر قائدین کی موجودگی میں رسم اجراء، 101 اہم وعدے
بھوپال: مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کیلئے، اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے آج عہد کیا کہ ریاست میں اس کی حکومت بننے پر کسانوں کے 2 لاکھ روپے تک کے قرضے معاف کرنے کی اسکیم کو جاری رکھا جائے گا اور اس کے علاوہ خواتین کو ماہانہ 1500 روپے ناری سمان ندھی کے طور پر فراہم کیے جائیں گے ۔ ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے دیگر سینئر لیڈروں کی موجودگی میں پارٹی کا ‘وچن پتر’ جاری کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ڈگ وجے سنگھ اور ‘وچن پتر’ کمیٹی کے سربراہ راجندر کمار سنگھ بھی موجود تھے ۔ ‘وچن پتر’ میں بنیادی طور پر 101 اہم ضمانتیں دی گئی ہیں۔ ’وچن پتر‘ کے ذریعہ کسانوں اور غریبوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس موقع پر مسٹر کمل ناتھ نے کہا کہ پارٹی 2018 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہے اور اس کے علاوہ دیگر وعدے بھی کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے پہلے مرحلے میں 27 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کیے تھے ۔ اس سکیم کو جاری رکھا جائے گا۔ کانگریس ریاست میں خوشحالی لانے کیلئے پرعزم ہے اور صنعتی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ کانگریس کے ’وچن پتر‘ کے مطابق خواتین کو ناری سمان ندھی کے طور پر ماہانہ 1500 روپے فراہم کیے جائیں گے ۔ گھریلو گیس سلنڈر 500 روپے میں دیا جائے گا۔ اندرا گرہ جیوتی یوجنا کے تحت 100 یونٹ تک بجلی مفت اور 200 یونٹ نصف شرح پر دی جائے گی۔ ملازمین کیلئے پرانی پنشن اسکیم 2005 نافذ کی جائے گی۔ کسانوں کو آبپاشی کیلئے پانچ ہارس پاور تک مفت بجلی دی جائے گی۔ کسانوں کے بجلی کے بقایا بل معاف کیے جائیں گے ۔ کسانوں کی تحریک اور بجلی سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد واقعات واپس ہوں گے ۔ مدھیہ پردیش کی تمام 230 اسمبلی سیٹوں کیلئے ووٹنگ 17 نومبر کو ہوگی اور 3 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی نئی حکومت کے حوالے سے تصویر واضح ہو جائے گی۔وچن پتر میں وعدہ کیا گیا ہے کہ کثیر معذور افراد کی پنشن کی رقم بڑھا کر 2000 روپے کی جائے گی۔ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرائی جائے گی۔ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو سرکاری خدمات اور اسکیموں میں 27 فیصد ریزرویشن دیں گے ۔ ساگر میں سنت شرومنی روی داس کے نام پر اسکل اپ گریڈیشن یونیورسٹی قائم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے ۔ تیندو پتہ کی مزدوری کی شرح 4000 روپے فی معیاری بورا کی جائے گی۔