منتھن کی سمواد ، گجرات یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سدرشن ایا نگر کا خطاب
حیدرآباد۔3اکٹوبر(سیاست نیوز) گجرات یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سدرشن ایانگر نے ’’ گاندھی نائو‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے دیہی علاقوں میں اے ٹی ایم مراکز کے قیام اور وہاں پر گارڈس کے طور پر مقامی لوگوں کی تعیناتی کے حوالے سے روزگار کی فراہمی کے نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ’’ اس طرح کے کام اورکاروائیاں موہن داس (گاندھی جی)کی سونچ اور نظریہ کے عین خلاف ہیں‘‘۔ پروفیسر سدرشن نے کہاکہ ’’موجودہ حکومت کو یا اس سے قبل جو حکومتیں رہی ہیںکوئی بھی موہن داس کا ہندوستان بنانے کی کوشش نہیںکی ہے‘‘۔ منتھن کے زیراہتمام منعقدہ’’ سمواد ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سدرشن ایانگرنے کہاکہ موہن داس علاقائی صنعت کو فروغ دینے کی وکالت کرتے تھے۔ انہوں نے گاندھی جی کی عظیم تحریک ستیہ گرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’موہن داس نے جب ستیہ گرہ کا اعلان کیاتو موتی لال نہرو نے انہیں طویل مکتوب لکھ کر استفسار کیاکہ کیا نمک اٹھانے سے انگریز ڈر جائیں گے‘ جس کے جواب میںموہن داس نے ایک پوسٹ کارڈ پر صرف ’کرکے دیکھو‘ لکھا اورروانہ کردیا‘‘۔ اپنے سلسلے خطاب میں پروفیسر سدرشن نے مزید کہاکہ جب موتی لال نہرو نے بھی لکھنو میںستیہ گرہ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیاتو ایک روز قبل انگریز پولیس ان کے گھر پر آگئی اور ان سے کہاکہ انگریز حکومت کے خلاف مہم چلانے اور حکومت کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میںتمہیںگرفتار کیاجاتا ہے۔ اس وقت موتی لال نہرو نے برٹش پولیس سے ایک لیٹر تحریر کرنے کی مہلت مانگی کیونکہ اس وقت کی پولیس مہلت دیتی تھی لہذا موتی لال نہرو نے بھی پوسٹ کارڈ کاسہارا لیا اور موہن داس کو جواب بھیجا کہ ’’کرکے دیکھ لیا‘‘۔ پروفیسر سدرشن نے کہا کہ موہن داس کرم چند گاندھی سچائی کی مثال تھے۔ وہ مہاتما نہیںتھے بلکہ ایک انسان تھے جس کی شخصیت کو مہاتما تک محدود کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ’ موہن داس کبھی پیسہ چراتے ‘ کبھی گوشت کھاتے تھے مگر انہوں نے اپنی ماں سے کبھی جھوٹ نہیںبولا ۔ موہن داس ہمیشہ سچ بولتے اور سچ کا ساتھ دیتے تھے ۔ مگر آج موہن داس کے نام کے ساتھ مہاتما جوڑ تو دیاجارہا ہے مگر مہاتما کہنے والے لوگ ہی سچ سے پرہیز کررہے ہیں‘‘۔پروفیسر ایانگر نے کہاکہ ترقی کے نام پر غریبوں کا مذاق اڑانا گاندھیائی اصول نہیںہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آج دنیا میںجو کچھ بھی ہورہا ہے ‘ مذہب ‘ ذات پات اور رنگ ونسل کے نام پر بربریت موہن داس کے اصولوں کے عین خلاف ہے۔ جتنی برائیاں اور خرابیاں رونما ہورہی ہیں اس کے خلاف بولنا چاہئے کیونکہ غلطیوں ‘ خرابیوں اورخامیوں پر خاموشی گاندھی کے اصولوں سے انحراف ہوگا۔انہوں نے کہاکہ سابق کی حکومتوں نے بھی گاندھی کے نام پر کھڈوں کی کھدوائی کرائی جبکہ موجود حکومت گاندھی کے نام پر صفائی کی مہم چلارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ افسوس کی بات تو یہ ہے جب تک ضمیر اور داخلی صفائی نہیںہوجاتی تب تک اوپری صفائی کاکوئی مطلب نہیںرہ جاتا ۔پروفیسر ایانگر نے ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ذات پات ‘ اور مذہب کے نام پر کی جانے والی کسی بھی قسم کی زیادتی موہن داس کے ہندوستان کی پہچان نہیںہے، گاندھی جی فرقہ وانہ ہم آہنگی او رچھوت اچھوت کی مخالفت کرنے والی تحریکات کاحصہ تھے اور اصولوں کے بغیر بنائی گئی رائے ملک اور ملک کی عوام دونوں کے لئے نقصاندہ ہے۔ گاندھی کی سونچ ہر ایک کے لئے روٹی ‘ کپڑا او رمکان کی تیاری ہے مگر اس پر بات نہیںہوتی ہے۔