مذہب کے نام پر منافرت کے بجائے مرکز سے فنڈس کیلئے بی جے پی مساعی کرے

   

راشن کارڈ اور ڈبل بیڈ روم مکانات منظور کئے جائیں، اقلیتی بجٹ مکمل جاری کرنے اسمبلی میں اکبراویسی کا مطالبہ
حیدرآباد 21 مارچ (سیاست نیوز) مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کے بجائے ریاست کے لئے مرکزی فنڈس حاصل کرنے کی مساعی کریں تاکہ ریاست کی ترقی ہو۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبرالدین اویسی نے کہاکہ مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کررہی ہے۔ بی جے پی قائدین کو چاہئے کہ وہ مرکز سے زیرالتواء اُمور کی یکسوئی کے لئے اپنا رول ادا کریں اور مرکز پر دباؤ بنائیں کہ تلنگانہ کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ مرکزی حکومت کے 24 محکمہ جات میں تلنگانہ سے متعلق 152 مسائل زیرالتواء ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بارہا دہلی کا دورہ کرتے ہوئے مرکز سے نمائندگی کی لیکن فنڈس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اکبراویسی نے کہاکہ بی جے پی قائدین عثمانیہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ مطالبہ اُن کے نظریہ کے عین مطابق ہے لیکن نام کی تبدیلی سے زیادہ تلنگانہ کی ترقی اہمیت کی حامل ہے۔ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے اور نفرت کے ذریعہ سماج میں پھوٹ پیدا کرنے کے بجائے بی جے پی کو محبت کے ذریعہ عوام کو قریب لانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ وقت آچکا ہے کہ بڑے بھائی یعنی نریندر مودی چھوٹے بھائی ریونت ریڈی کو بچانے کے لئے آگے آئیں۔ بی جے پی قائدین کو چاہئے کہ وہ اِس سلسلہ میں بڑے بھائی کو توجہ دلائیں تاکہ تلنگانہ کی تیز رفتار ترقی ممکن ہوسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2014 ء سے مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 11 برسوں میں تلنگانہ نے جو بھی ترقی کی ہے اُس میں بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت کا بھی نمایاں حصہ ہے۔ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی مکمل اجرائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اکبراویسی نے کہاکہ کئی اہم اسکیمات کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں اقلیتی اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اندراماں ہاؤزنگ کے مکانات کی تعمیر تک کم از کم تیار شدہ مکانات کو مستحق خاندانوں میں الاٹ کرنے کی کارروائی کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ایک بھی راشن کارڈ جاری نہیں کیا گیا اور حیدرآباد میں تو موجودہ راشن کارڈ منسوخ کردیئے گئے۔ اُنھوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ مستحق خاندانوں کو راشن کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی جائے۔ بی آر ایس دور حکومت میں اقلیتی فینانس کارپوریشن سے نوجوانوں کو ایک لاکھ روپئے تک قرض کے چیکس جاری نہیں کئے گئے۔ بعض امیدواروں کو چیک حاصل ہوئے لیکن رقم جاری نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے کہاکہ ایسے نوجوان اب دوبارہ درخواست دینے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ فہرست میں اُنھیں استفادہ کنندگان کے ناموں میں رکھا گیا ہے۔ اُنھوں نے اقلیتی اسکیمات میں آبادی کے تناسب سے اقلیتوں کو حصہ داری دینے کا مطالبہ کیا۔ اکبراویسی نے کہاکہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے لئے کم از کم 60 کروڑ روپئے جاری کئے جائیں تاکہ بیرونی ممالک میں فیس کی ادائیگی سے محروم طلبہ کو راحت ملے۔ اُنھوں نے کہاکہ 30 اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے لئے مرکزی حکومت نے اپنی حصہ داری کے طور پر 111 کروڑ روپئے جاری کئے لیکن تلنگانہ حکومت نے ابھی تک اپنا حصہ جاری نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کم از کم 60 کروڑ کی اجرائی سے 30 اسکولوں کی تعمیر مکمل ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے اجمیر میں رباط کی تعمیر مکمل کرنے اور گزشتہ سال حج سیزن کے بلز کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لئے جو رقومات مختص کی جاتی ہیں اُنھیں مکمل طور پر جاری کیا جانا چاہئے۔ 1