مراقشی بچہ زلزلے میں اپنی ماں، دادی اور بہن بھائی سے محروم

,

   

مسلم افریقی ملک میں شہریوں نے تیسری شب بھی سڑکوں پر گزاری، ہلاکتوں کی تعداد 2100 ہوگئی

رباط: مراقش میں آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے ممکنہ طور پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق مراقش میں آنے والے زلزلے کی مثال گزشتہ ساٹھ برس میں نہیں ملتی۔ اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے جبکہ پہاڑی علاقوں کے دامن میں آباد علاقے تباہ ہوگئے۔ ایسے واقعات، دل دہلا دینے والے مناظر اور کہانیاں سامنے آرہی ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر دل خون کے آنسو بہا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک مراقشی بچے کی ویڈیو وائرل ہے جو زلزلے کے دوران زندہ بچ گیا تاہم اس نے اپنی ماں، دادی اور بہن بھائی کھو دیئے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے مراقشی بچے کے معصوم چہرے پر خون جما ہوا تھا اور وہ اپنے پیاروں محرومی کا ذکر انتہائی دکھ سے کرررپا تھا۔بچے کا کہنا ہے کہ زلزلے میں اس کے والد، چچا اور دادا زندہ بچے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کی رپورٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تاریخی اور سیاحتی شہر مراقش میں لوگوں نے رات سڑکوں پر گزاری۔12ویں صدی میں تعمیر ہونے والی مشہور جامعہ مسجد الکتبیہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کا 69 میٹر (226 فٹ) کا مینارمراقش کی چھت کے نام سے جانا جاتا ہے،مراقش شہر کے سرخ دیواریں اور یہ مسجد یونسیکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔مراقش میں جمعے کی رات آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سیاحتی شہر مراقش میں شہریوں نے تیسری رات بھی سڑکوں پر گزاری۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2100 ہو گئی ہے جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ چھ اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے سے تین لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2122 افراد ہلاک اور 2421 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 1404 کی حالت تشویشناک ہے۔امریکہ اور فرانس سمیت متعدد ملکوں کی جانب سے امداد کی پیشکش کے بعد مراقش کے حکام نے اتوار کو کہا کہ وہ صرف چار ممالک، اسپین، قطر، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے بین الاقوامی امداد لے رہے ہیں۔وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’مراقش کے حکام نے احتیاط کے ساتھ ضروریات کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس طرح کے معاملات میں روابط کا فقدان نقصان دہ ہو گا۔اتوار کو بین الاقوامی سرچ اور ریسکیو ٹیمیں پہنچ گئی تھیں جبکہ دیگر امدادی ٹیمیں حکومت کی اجازت کی منتظر ہیں۔ریسکیوئرز ودآؤٹ بارڈرز کے بانی آغنو فخیس جن کی ٹیم پیرس میں حکومتی گرین سگنل کا انتظار کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو بچانے اور ملبے کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ ملبے کے نیچے مر رہے ہیں اور ہم ان کو بچانے کیلئے کچھ نہں کر سکتے۔سیاحتی ٹاؤن امزمیز میں مدد سست روی سے پہنچی جہاں ایک پہاڑ میں نارنجی اور سرخ ریتیلے پتھر کے اینٹوں سے بنے مکانات غائب ہیں۔ایک مسجد کا مینار بھی گر گیا تھا۔28 برس کے صلاح انچو نے کہا کہ ’تباہی ہوئی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مستقبل کیا ہو گا۔ امداد ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہاں ایمبولینس نہیں ہے، پولیس بھی موجود نہیں۔فتانا بیچار کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو وہ سو رہے تھے اور مکان کی چھت ان پر گر گئی۔’مجھے پڑوسیوں نے نکالا اور اب ان کے گھر میں مقیم ہوں کیونکہ میرا گھر مکمل تباہ ہو گیا ہے۔وہ لوگ جو بے گھر ہو گئے ہیں یا آفٹرشاکس کی وجہ سے خوفزدہ ہیں، انہوں نے سیاحتی شہر مراقش میں سڑکوں یا عارضی ٹینٹ میں رات گزاری۔سب سے زیادہ تباہی دیہی علاقوں میں ہوئی جہاں پر سڑکیں بھی کچی ہیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اتوار کو کوہ اطلس کے علاقوں میں تین اعشاریہ 9 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے مزید کوئی نقصان ہوا یا نہیں۔شاہ محمد ششم کی جانب سے ملک میں تین روزہ سوگ کے اعلان کے بعد ملک کی سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہیں۔زلزلہ آنے کے بعد مراقش نے اتوار کو پہلی مرتبہ کہا کہ وہ چار ممالک سے امداد تسلیم کرے گا تاہم ابھی تک اس نے ترکی کی طرح بین الاقوامی امداد کی اپیل نہیں کی۔