عیادت اور تدفین میں شرکت کرنے والے مرض سے لا علم، رشتہ داروں اور احباب کو باخبر رکھنے کی ضرورت
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں لاک ڈائون میں نرمی اور عام زندگی کی بحالی کے فوری بعد مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ حکومت اور حکام کیلئے چیلنج بن چکا ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیدار گریٹر حیدرآباد میں اچانک اموات میں اضافے کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بارے میں بعض ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں مریضوں کی تعداد میں اضافے کی اہم وجہ مرض کے بارے میں رشتہ داروں و دوست احباب کو لاعلم رکھنا ہے۔ اکثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کورونا علامات ظاہر ہونے کے باوجود لوگ متاثرہ افراد کو ہاسپٹل یا کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے گھر پر بخار، سردی اور کھانسی سمجھ کر معمول کا علاج کررہے ہیں۔ گھریلو علاج کے نتیجہ میں وائرس کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ صورتحال جب قابو سے باہر ہوجاتی ہے تو لوگ مریض کو ہاسپٹل سے رجوع کررہے ہیں لیکن کوئی بھی ہاسپٹل سیریئس مریضوں کو قبول کرنے تیار نہیں ہے۔ اکثر اموات دواخانوں کے چکر کاٹنے کے درمیان ہی ایمبولینس میں واقع ہوئی ہیں۔ بسا اوقات کورونا علامات ظاہر ہونے کے باوجود ٹسٹ کرانے سے گریز کیا جارہا ہے۔ اکثر دیکھا جارہا ہے کہ ضعیف العمر افراد کے علاج کے سلسلہ میں کوتاہی نے مرض کو لاعلاج بنادیا۔ مرض کے دوران دوست احباب اور رشتہ داروں کی بلا تکلف اور احتیاط کے بغیر ملاقاتوں کا سلسلہ وائرس کے پھیلائو میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتقال کے بعد زیادہ تر لوگ وائرس سے موت کی وجوہات کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں اور طبعی موت قراردے کر تجہیز و تکفین کا انتظام کیا جارہا ہے۔ طبعی موت کے گمان میں رشتہ داروں و دوست احباب کی کثیر تعداد نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کررہی ہے اور یہ موقع وائرس کی منتقلی کا ثابت ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹرس اور ماہرین نے مشورہ دیا کہ کورونا علامات ظاہر ہوتے ہی قریبی رشتہ داروں اور دوست احباب کو گھر آنے سے منع کردیا جائے اور کورونا سے مشتبہ موت کی صورت میں مرض کے اظہار کو چھپانے کے بجائے محدود تعداد میں شرکاء کے ساتھ میڈیکل احتیاط اختیارکرکے تدفین عمل میں لائی جائے۔ مرض کے بارے میں دوسروں کو لا علم رکھنے کے سبب وائرس بآسانی پھیل رہا ہے۔ نماز جنازہ اور تدفین میں طبعی موت سمجھ کر بڑی تعداد میں دوست احباب و رشتہ دار شریک ہورہے ہیں۔ پرانے شہر میں بعض ایسے واقعات منظر عام پر آئے جس کے متاثرین نے شکایت کی تدفین میں شرکت کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ کورونا کی موجودہ صورتحال کے باوجود بعض علاقوں میں دعوتوں اور محافل کا سلسلہ جاری ہے جو کمیونٹی ٹرانسمیشن کا سبب بن رہا ہے۔ عوام کو چاہئے کہ وہ مرض پر قابو پانے قریبی افراد کو حقیقت حال سے باخبر رکھیں تاکہ عیادت یا انتقال میں شرکت کیلئے لوگ احتیاط برتیں۔