مرکزی وزیر اجئے مشرا کی برطرفی کیلئے سی پی آئی کا احتجاج

   

سیاہ زرعی قوانین سے دستبرداری کا مطالبہ، عزیز پاشاہ، وی ایس بوس اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) سی پی آئی کی جانب سے آج نارائن گوڑہ میں احتجاج منظم کرتے ہوئے مرکزی مملکتی وزیرداخلہ اجئے مشرا کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ، جنرل سکریٹری آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس وی ایس بوس، سٹی سکریٹری ای ٹی نرسمہا کی قیادت میں سی پی آئی کارکنوں نے دھرنا منظم کیا۔ احتجاجی مودی اور یوگی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے۔ اُنھوں نے کسانوں کی ہلاکت کے ذمہ دار مملکتی وزیرداخلہ اجئے مشرا کے فرزند کے خلاف سخت کارروائی اور عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں نے مرکزی حکومت کے تینوں سیاہ قوانین سے دستبرداری کی مانگ کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عزیز پاشاہ نے کہاکہ سیاہ قوانین کے خلاف کسان گزشتہ ایک سال سے احتجاج کررہے ہیں لیکن مرکزی حکومت نے آج تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سی پی آئی نے کسان ایجی ٹیشن کی تائید کی ہے اور یہ تائید سیاہ قوانین سے دستبرداری تک جاری رہے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ مملکتی وزیرداخلہ کے فرزند نے اپنی گاڑی سے احتجاجی کسانوں کو روند ڈالا جس کے نتیجہ میں 4 کسانوں کے بشمول 8 افراد کی موت واقع ہوگئی۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس واقعہ کے 6 دن بعد پولیس نے ملزم کو حراست میں لیا اور حکومت کی جانب سے اُسے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عزیز پاشاہ نے کہاکہ اجئے مشرا کی مرکزی کابینہ میں شمولیت غیر قانونی ہے کیوں کہ 2003 ء میں اُن پر قتل کا معاملہ درج کیا گیا۔ جو ہائیکورٹ میں زیردوران ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اجئے مشرا نے حال ہی میں کسانوں کو احتجاج کے خلاف انتباہ دیا تھا جس کے بعد اُن کے فرزند نے گاڑی سے روند ڈالا۔ سی پی آئی قائدین نے یوگی حکومت پر کسانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھر کے کسان نریندر مودی حکومت کو سبق سکھائیں گے۔ ر