لوک سبھا میں ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج، بجٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی شکایت
حیدرآباد ۔3 ۔ فروری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ پانچ ہزار کروڑ جی ایس ٹی بقایا جات تلنگانہ کو فوری جاری کئے جائیں ۔ وقفہ سوالات کے دوران ارکان پارلیمنٹ ناما ناگیشور راؤ اور کے پربھاکر ریڈی نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے کی گئی ناانصافیوں کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کی ترقی کے لئے مرکز نے کوئی فنڈس جاری نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے جی ایس ٹی کی حصہ داری جاری کرنے میں ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی شکایت کی اور کہا کہ تلنگانہ کو پانچ ہزار کروڑ جی ایس ٹی بقایا جات کی اجرائی باقی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر کئی مرتبہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء کو مکتوب روانہ کیا لیکن مرکز کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ ناگیشور راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ترقیاتی اور فلاحی اقدامات میں ملک میں سرفہرست ہے ۔ کے پربھاکر ریڈی نے کہا کہ مرکز سے جی ایس ٹی بقایا جات کی اجرائی میں تاخیر کے سبب تلنگانہ میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے ۔ ایوان میں شور و غل کے باوجود ٹی آر ایس ارکان نے تلنگانہ سے ناانصافیوں کا ذکر کیا۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے ، ان پر عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی ۔ لوک سبھا میں اپوز یشن نے شہریت قانون اور این آر سی مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی ۔ جمہوریت بچاؤ ، ہندوستان بچاؤ جیسے نعرے لگائے گئے ۔