بابری مسجد رام جنم بھومی مسئلہ حل ہوگا ، لیکن کشمیر کے حل کا امکان نہیں !
مودی حکومت عوام کو بے وقوف بنانے میں ماہر ، بالا گوپال یادگار اجلاس سے حقوق انسانی کے جہد کاروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے ذریعہ ہمارے حکمرانوں کو اپنی سیاسی دکان چمکانے اپنے مفادات و ناپاک عزائم کی تکمیل کا ایک نیا آلہ مل گیا ہے ۔ مسئلہ کشمیر بی جے پی حکومت کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے اور وہ مسئلہ کو قوم پرستی کا لبادہ اڑھا کر پیش کررہی ہے چونکہ اس مسئلہ سے پاکستان بھی جڑا ہوا ہے ۔ ان حالات میں بی جے پی کے لیے مسئلہ کشمیر عوام کو بے وقوف بنانے ، جھوٹ کو سچ ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ بھی بن گیا ہے ۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جو چلتا ہی رہے گا ۔ جس کے حل کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے ۔ اس کے برعکس دوسرے تمام مسائل چاہے وہ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کا ہی مسئلہ کیوں نہ ہو ایک نہ ایک دن یہ مسائل حل ہوجائیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی ان مسئلوں کو قوم پرستی کے پردہ میں چھپا نہیں پاتی ۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز ادیب و فلمساز اور انسانی حقوق کے جہدکار سنجے کاک نے ہیومن رائٹس فورم کے زیر اہتمام سندریہ وگنانا کیندرم باغ لنگم پلی میں انسانی حقوق کے عظیم جہدکار کے بالا گوپال یادگار اجلاس سے خطاب میں کیا ۔ جس میں صفائی کرمچاری اندولن کے قومی صدر ہندواڑہ ولسن پیپلز موومنٹ اگیسنٹ نیوکلیر انرجی (PMANE) کے ایس پی اودے کمار نے بھی شرکت کی ۔ اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مسٹر سنجے کاک نے پر زور انداز میں کہا کہ آج ہندوستان بے شمار مسائل سے گھرا ہے ۔ معیشت کا برا حال ہے ۔ نوجوان روزگار کے لیے ترس رہے ہیں ۔ فرقہ پرستی کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے ۔ ہجومی تشدد کے ذریعہ اقلیتوں میں خوف پیدا کیا جارہا ہے ۔ خواتین اور لڑکیاں محفوظ نہیں ہیں ۔ مسلمانوں اور دلتوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے ۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے اور اسے آئینہ دکھانے والوں کے خلاف غداری و بغاوت کے الزامات کے تحت مقدمات درج کردئیے جاتے ہیں۔ ان تمام سماجی ، معاشرتی و انسانی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے نئے نئے مسائل پیدا کئے جارہے ہیں ۔ نام نہاد قوم پرستی کے نعروں سے عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توجہ مذکورہ مسائل سے ہٹانے جموں و کشمیر کو دفعہ 370 اور 3A کے تحت حاصل خصوصی موقف برخاست کردیا گیا ۔ مسٹر سنجے کاک کے مطابق بی جے پی اور اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس مسئلہ کشمیر کو سنگین سے سنگین تر بنا کر عوام پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ قوم پرستی میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ تاہم مودی حکومت سے شاید اس کی ناتجربہ کاری یا حد سے زیادہ ہشیاری سے اس قدر بڑی غلطی ہوئی ہے کہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی گونج سنائی دے رہی ہے یہ اور بات ہے کہ ہمارا میڈیا کشمیر کی بی جے پی کی خواہش اور مرضی و منشا کے مطابق تصویر پیش کررہا ہے ۔ لیکن عالمی میڈیا کشمیر کی حقیقی تصویر پیش کرنے میں ہندوستانی میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ان رپورٹس سے کشمیر میں کیا ہورہا ہے وہاں عوام کس طرح 70 دنوں سے اپنے گھروں میں محروس ہیں اور انہیں کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل ہورہی ہیں ۔ آج دنیا عالمی گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ لمحوں میں خبریں ایک مقام سے دوسرے مقام کو پہنچ جاتی ہیں ۔ مسٹر سنجے کاک کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر میں لوگ گھروں سے باہر نہ نکل کر ایک قسم کی ستیہ گرہ کررہے ہیں ۔ جس سے حکومت پر ہئیبت طاری ہوگئی ہے ۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ آرٹیکل 370 اور 35A کی برخاستگی سے جموں کے عوام خوش ہیں اور اس سے کشمیر کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی ۔ سب غلط ہے ۔ جموں کے عوام بھی ناراض ہیں اس کے برعکس ہماری حکومت اور وزیر داخلہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں ۔ سابق چیف منسٹر اور نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبد اللہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ فاروق عبداللہ اپنی مرضی سے گھر میں ہیں توپھر سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی مرضی سے گھر میں محروس ہیں تو ان پر پی ایس اے کیوں نافذ کیا گیا ۔ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مودی اور ان کی حکومت کے غرور و تکبر کا نتیجہ ہے ۔ وہ کسی کی بات اور مشورہ سننے کے لیے تیار نہیں ۔ اسی کا حال یہ ہے کہ وہ جو ٹھان لیتے ہیں کر کے رہتے ہیں لیکن کب تک وہ ایسا کرتے رہیں گے ۔ کبھی نہ کبھی انہیں عوام کی بات سننی پڑے گی ۔ مسٹر سنجے کاک نے پر زور انداز میں یہ بھی کہا کہ جب تک ہم جمہوریت کو مضبوط نہیں کریں گے اور جب تک حکومت جمہوریت کا منہ بند کر کے رکھے گی مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکلے گا ۔ بعد میں سیاست ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مسٹر سنجے کاک نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ امیت شاہ کا یہ دعویٰ کہ کشمیر میں ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی ۔ ایک جھوٹ ہے کیوں کہ آپ گولی چلائے بنا بھی انسان کو مار سکتے ہیں ۔ کسی کو اس کی اولاد سے دور کر کے یا آپ اس کی ’ دوا دارو ‘ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردیں یا ڈاکٹر سے رجوع ہونے کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو ان حالات کا شکار بناکر بھی انسان کو مارا جاسکتا ہے ۔ اس کے سینے میں گولی داغنے کی ضرورت نہیں ۔ کشمیر میں یہ سب کچھ ہورہا ہے ۔ دوسری بات کشمیریوں کے ساتھ ہماری حکومت کا جو رویہ ہے وہ سلجھانے کا نہیں لگ رہا ہے ۔ بالا گوپال 10 ویں یادگار اجلاس سے ہندواڑہ ولسن نے خطاب کرتے ہوئے ملک میں صفائی کرمچاریوں کی حالت زار اور نریندر مودی حکومت کے تساہل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سوچھ بھارت پروگرام پر نریندر مودی حکومت نے ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کر ڈالے ۔ لیکن شرم کی بات یہ ہے کہ آج بھی ہمارے ملک میں انسان انسانی غلاظت کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا ہے ۔ سندریہ وگیانا کیندرم حقوق انسانی کے جہد کار مرد و خواتین و دانشوروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ شہ نشین پر مسٹر وی ایس کرشنا اور ایس جیون کمار بھی موجود تھے ۔۔