مستقبل میں دسویں امتحانات ختم کرنے ریونت ریڈی کا اعلان

   

نرسری سے انٹر تک ایک ہی تعلیمی نظام ۔ آئندہ سال سے نئی تعلیمی پالیسی نافذ ہوگی: چیف منسٹر
حیدرآباد : /20 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نرسری سے 12 ویں جماعت تک ایک متحدہ تعلیمی نظام نافذ کیا جائے گا اور مستقبل میں دسویں جماعت کے علحدہ بورڈ امتحانات ختم کردیئے جائیں گے ۔ یہ نیا تعلیمی نظام آئندہ تعلیمی سال سے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ طلبہ پر غیر ضروری امتحانی دباؤ کم کیا جاسکے اور قومی سطح کے مطابق تعلیمی نظام اپنایا جاسکے ۔ بجٹ کی پیشکشی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بجٹ کو کانگریس حکومت کا فلاحی اور ترقیاتی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جارہے ہیں ۔ مالی صورتحال پر انہوں نے سابق بی آر ایس حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ سابق حکومت نے قرضوں اور مالی غلطیوں کو چھپاکر حکمرانی کی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت پر 3.47 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض ہے اور انہیں کے سی آر دور کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینا پڑا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 26 مہینوں میں تقریباً 3.3 لاکھ کروڑ روپئے کے قرضے ادا کئے گئے ۔ جبکہ کالیشورم پراجکٹ پر 44 ہزار کروڑ روپئے کا بوجھ بھی چکایا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فون ٹیاپنگ کیس میں تحقیقات قانون کے مطابق جاری ہیں اور اس میں گرفتاریاں بھی جاری ہیں ۔ انہوںنے واضح کیا کہ حکومت ہر معاملے میں شفافیت اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنارہی ہے ۔ فارمولا ای کار ریس کا معاملہ بھی قانون کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جلد بازی میں کارروائی سے عدالت میں کیس کمزور ہوسکتا ہے ۔ اس لئے تحقیقات کی تکمیل کے بعد ہی مناسب قدم اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چند اپوزیشن قائدین خود کو تحقیقات کیلئے تیار ظاہر کر رہے ہیں جبکہ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور وقت آنے پر فیصلہ کریں گے ۔ تلنگانہ کی حقیقی قیادت کس کے پاس ہے ۔ 2