مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی مراعات کا تین برسوں سے انتظار

   

اقلیتی بہبود کے عہدیدار جی او 16 سے لاعلم، مسلم طلبہ ، وکلاء اور کسانوں کو مراعات پر عمل آوری کب ہوگی

حیدرآباد۔/5 ستمبر، ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں گزشتہ تین برسوں سے اقلیتوں کو جی او ایم ایس 16 پر عمل آوری کا انتظار ہے جس کے ذریعہ ایس سی، ایس ٹی طبقات کے مساوی 8 مختلف مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار خود 2018 میں اسوقت کے چیف سکریٹری ڈاکٹر شلیندر کمار جوشی کی جانب سے جاری کردہ احکامات سے لا علم ہیں۔ حکومت کی ساری توجہ دلت طبقات کی معاشی ترقی پر ہے ایسے میں جی او ایم ایس 16 مورخہ 13 مارچ 2018 کا انکشاف ہوا جس میں اقلیتی طبقات کیلئے تعلیمی اور معاشی مراعات شامل ہیں۔ ایس سی، ایس ٹی طبقہ کو دستور میں دی گئی مراعات کے علاوہ جو مراعات حاصل ہیں ان میں سے 8 اقلیتوں کو فراہم کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا تھا لیکن جی او پر عمل آوری پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ جن 8 شعبوں میں اقلیتوں کو مراعات کی گنجائش ہے ان میں بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ کیلئے درکار امتحانات کی کوچنگ شامل ہے۔ جی آر ای، جی میٹ، TOFEL اور IELTS جیسے امتحانات کی کوچنگ اقلیتوں کو مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ہر سال ایک ہزار اقلیتی طلبہ کو کوچنگ کی گنجائش ہے۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کے مماثل اقلیتی لاء گریجویٹس اور ایڈوکیٹس کو مالی امداد کا فیصلہ کیا گیا۔ ہرضلع میں 10 اقلیتی لاء گریجویٹس جبکہ حیدرآباد میں 100 لاء گریجویٹس کو تین سال کیلئے ماہانہ اسٹائیفنڈ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حیدرآباد ، ورنگل، نظام آباد اور محبوب نگر میں اقلیتی امیدواروں کو ٹریننگ کیلئے اِسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ ہر سنٹر پر 25 کروڑ کے خرچ کی گنجائش رکھی گئی۔ ایس سی طبقات کیلئے سوشیل ویلفیر فنڈ کی طرح میناریٹیز ویلفیر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا جس کے تحت یتیم خانوں، اولڈ ایج ہومس، معذورین کے مراکزاور دیگر فلاحی اداروں کو مالی امداد دی جاسکتی ہے۔ صنعتوں کے قیام کیلئے اقلیتی صنعت کاروں کو مختلف مراعات دی جائیں گی۔ ہر سال ایک ہزار چھوٹے اور متوسط صنعت کاروں سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے چھوٹے اور متوسط کسانوں کیلئے مختلف مراعات اور امدادی پیاکیجس کی گنجائش اس جی او کے تحت موجود ہے۔ جی او میں جن 8 مراعات کا تذکرہ شامل ہے ان میں اقلیتی بہبود کے تحت 4 اسکیمات ہیں لیکن افسوس کہ محکمہ اقلیتی بہبود خود اس جی او پر عمل آوری کے بارے میں خواب غفلت کا شکار ہے۔ R