حیدرآباد۔/26 اپریل، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کی برخواستگی کے حق میں کرناٹک حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں 4 فیصد تحفظات کی برخواستگی کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت جاری ہے اور آئندہ سماعت 9 مئی کو مقرر کی گئی۔ حکومت کرناٹک نے سالیسٹر جنرل کے ذریعہ عدالت سے جواب داخل کرنے کیلئے وقت حاصل کیا تھا۔ اگرچہ اس مقدمہ کی سماعت 9 مئی کو ہے لیکن کرناٹک حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر مسلم طبقہ کیلئے تحفظات کو جاری نہیں رکھا جاسکتا تھا لہذا غیر دستوری تحفظات کو ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ دستور کی دفعہ 14 اور 16 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ کرناٹک حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ 4 فیصد مسلم تحفظات ختم کردیئے گئے لیکن مسلمانوں کو EWS تحفظات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات حاصل ہوں۔ حکومت کے جواب میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر تحفظات سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہیں لہذا حکومت نے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگا رتنا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے 9 مئی تک حکومت کے احکامات پر روک لگاتے ہوئے تحفظات پر عمل آوری کو برقرار رکھا ہے۔ر