پانچ سال میں قرض اور ڈبل بیڈ روم مکان سے مسلمان محروم، راجندر نگر کے اقلیتوں کی کانگریس میں شمولیت
حیدرآباد۔/25 جون، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی تائید کیلئے صدر مجلس اسد اویسی کی اپیل کو نظرانداز کردیں کیونکہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کے سی آر نے دھوکہ دیا ہے۔ حیدرآباد کے راجندر نگر اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس کے اقلیتی قائدین اور کارکنوں نے آج ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ کی 9 برسوں میں تکمیل نہیں کی برخلاف اس کے کانگریس کی جانب سے فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کو سپریم کورٹ میں خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ تحفظات کو بچانے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی موثر پیروی نہیں کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی نے تحفظات کے مسئلہ پر اسد اویسی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گذشتہ دو انتخابات میں اسد اویسی نے مسلمانوں کے ووٹ سے کے سی آر کو برسراقتدار آنے میں مدد کی لیکن نئی دہلی میں یہ ووٹ بی جے پی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے سچر کمیٹی کی سفارشات کے تحت مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے۔ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اسوقت کے وزیر محمد علی شبیر کی مساعی پر روزگار اور تعلیم میں 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جو آج تک جاری ہیں۔ کے سی آر نے 12 فیصدکا وعدہ پورا نہیں کیا اور موجودہ 4 فیصد کو بچانے میں بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ امیت شاہ نے حیدرآباد میں مسلم تحفظات کے خلاف بیان دیا لیکن کے سی آر خاموش رہے۔ کے سی آر کی خاموشی پر اسد اویسی نے سوال نہیں کیا جبکہ دو مرتبہ اقتدار مسلمانوں کی تائید سے حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو کے سی آر کا حقیقی چہرہ پہچان کر آئندہ انتخابات میں کانگریس کی تائید کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اب اسد اویسی کی باتوں میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں مسلمانوں کو چھوٹے کاروبار کیلئے کوئی قرض نہیں ملا اور نہ ہی ڈبل بیڈ روم مکان الاٹ کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی سے رشتوں کو ہموار کرنے کیلئے کے ٹی آر نے دہلی میں بی جے پی کے قومی قائدین سے ملاقات کی ہے۔ ریونت ریڈی نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں راجندر نگر اسمبلی حلقہ سے کانگریس کی کامیابی کو یقینی قرار دیا۔ر