ریاست میں مسلمانوں کی حالت سیاسی معذوروں جیسی، ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں سلیم سارنگ کے تاثرات
ممبئی: مسلم ریزرویشن کے حصول کے لئے عروس البلادممبئی میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔آج ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں مسلم ویلفئیر ایسوسی ایشن کے بینر تلے ریاست کے مختلف ضلعوں سے تعلق رکھنے والے مسلم ریزرویشن کے محرک کارکنان نے یہ اعلان کیا کہ جب تک حکومت مسلمانوں کو 5فیصدریزرویشن فراہم نہیں کرتی ان کی ریاست گیر تحریک جاری رہے گی۔ممبئی میں اس تحریک وابستہ مسلم ویلفئیر اسوسی ایشن کے صدر سلیم سارنگ نے ریاست میں مسلمانوں کی کیفیت ایک سیاسی معذور جیسی ہوگئی ہے اب ریزرویشن کے ساتھ ساتھ ہم سیاسی حصہ داری کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں،یہ سچ ہے کہ ریاست کے نائب وزیر اعلی اجیت پوارمسلم ریزرویشن کے حق میں ہیں لیکن ہمارے خیال میں حق میں رہنا اور نفاذ دو متضاد معاملے ہیں!اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ بھرم پھیلایا جا رہا ہے کہ انڈیا الائنس مسلمانوں کا حامی ہے اگر حامی ہوتا تو لوک سبھا میںمسلم لیڈران کو امیدواری دیتا جبکہ صرف مہاراشٹر میں چار لوک سبھا حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دی جاسکتی تھی!مگر یہ سیکولر پارٹیاں بس مسلمانوں کو افطار کرا کر انہیں خوش رکھنا چاہتی ہیں،اب بات حد سے آگے نکل چکی ہے ، ریزرویشن کی فراہمی کے معاملہ میں ہائی کورٹ کی منطوری کے بعد بھی یہ حکومتیں مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں،اگر آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو بی جے پی کے ساتھ رہتے ہوئے وہاں کے مسلمانوں کو ببانگ دہل چار فی صد ریزرویشن دے رہے ہیں تو مہاراشٹر کے مسلمانوں کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ؟ مسلم ویلفئیر اسوسی ایشن کے ساتھ ریاست کی مختلف این جی اوز نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملہ پر اب ایک ریاست گیر تحریک چھیڑی جائے گی اور جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوں گے یہ تحریک جاری رہے گی ہم اب سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے انہوں نے دیگر اضلاع سے آنے والے مسلم ریزرویشن محرکین کو یقین دلایا کہ آپ اگر ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم ممبئی اس تحریک کی مضبوطی کے لئے دو قدم آگے بڑھائیں گے ۔روزنامہ ہندوستان کے مدیر سرفراز وآرزو نے کہا کہ مسلم ریزرویشن کوئی آسان مرحلہ نہیں ہے اس معاملہ میں ہمیں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے یہ درست ہے کہ ایک طرف سے اس معاملہ میں ہمیں حمایت مل رہی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے مخالفین کی تعداد بھی زیادہ ہے ۔آخر ہم کس سے مطالبہ کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ جبکہ ہم جان چکے ہیں کہ حکومت اس مد میں رضامند نہیں ہے !جب قانون مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی منافی کرتا ہے تو ہم بحیثیت مسلمان ریزرویشن کیوں مانگ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا ریزرویشن اگر کچھ ریاستوں نے دیا بھی ہے تو عدالتوں نے اسے ٹھکرادیا ہے مہاراشٹر میں مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ریزرویشن فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ت لئے ہم حکومت کے محتاج کیوں ہیں؟ اس ضمن میں اپنا سروے ہمیں خود کرانا چاہئے ۔