سائنسدان جیوفری ہنٹن کا نیویارک ٹائمز کو انٹرویو
حیدرآباد۔2۔مئی (سیاست نیوز) انفارمیشن ٹکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے سائنسداں جیوفری ہنٹن نے گوگل سے استعفیٰ دینے کے بعد ’نیویارک ٹائمز‘ سے بات چیت کے دوران کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے رجحان میں پیدا ہونے والی مسابقت انسانیت اور معاشرہ کے لئے خطرہ ہے۔جیوفری ہنٹن جنہیں مصنوعی ذہانت کی تیاری اور ارتقاء کا موجد قرار دیا جاتا ہے نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے رجحان میں پیدا ہونے والی مسابقت کو غیر صحتمندانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے استعمال میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دنیا بھر میں معاشرتی تباہی اور بے روزگاری میں اضافہ ہونے لگ جائے گا جس پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ 5سال قبل ٹیکنالوجی کے استعمال اور دور حاضر میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے رجحان کا مشاہدہ کرنے پر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کس قدر تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ہنٹن نے کہا کہ جب وہ 5برسوں کے دوران دیکھی جانے والی تبدیلی کو دیکھتے ہیں اور انسانی مزاج میں آنے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے خوفزدہ ہونے لگے ہیں جس کی وجہ سے وہ ٹیکنالوجی کی دنیا کو خیر آباد کررہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان جاری غیر صحتمندانہ مسابقت مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کا مؤجب بن رہی ہے اور اس کی ترقی کی رفتار بے روزگاری میں اضافہ کے علاوہ غلط معلومات کو پھیلانے کا سبب بن رہی ہے اسی لئے اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے پر قدغن لگائی جانی چاہئے ۔جوفری ہنٹن نے کہا کہ 2022میں گوگل نے اوپن چیاٹ بوٹ AIکے ذریعہ جو ڈاٹا کا استعمال شروع کیا ہے اس کے بعد سے انسانی ذہانت مفلوج اور مصنوعی ذہانت کی محتاج ہونے لگی ہے اسی لئے یہ ٹیکنالوجی نقصاندہ ثابت ہونے لگی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ جوفری ہنٹن نے گذشتہ ماہ گوگل سے مستعفی ہونے کے فیصلہ سے کمپنی کے ذمہ داروں کو واقف کروادیا تھا ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے نقصانات کے متعلق عوام کو واقف کروانے کے علاوہ اس بات پر خصوصی توجہ دیں کہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگیوں پر کس قدر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے اور انسانی دماغ کو اس ٹیکنالوجی سے کتنا نقصان ہوگا اور عالمی سطح بے روزگاری میں کس طرح اضافہ ہوگا!۔م