اسکیمات متاثر ہونے کا اندیشہ، عبوری بجٹ کے مقابلہ 600 کروڑ کی تخفیف، اقلیتی اداروں کی مشکلات میں اضافہ
حیدرآباد ۔16۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں معاشی انحطاط کا اثر راست طور پر بجٹ پر پڑا ہے ۔ کے سی آر حکومت نے مجموعی طور پر تمام محکمہ جات کے بجٹ میں تخفیف کرتے ہوئے مختلف اسکیمات میں کمی کردی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو بھی بجٹ کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کی کئی اسکیمات متاثر ہوسکتی ہے۔ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال پیش کردہ علی الحساب بجٹ میں 6 ماہ کے لئے اقلیتی بہبود کا بجٹ 823 کروڑ 21 لاکھ 34 ہزار مختص کیا تھا ، اس طرح مکمل ایک سال کا بجٹ 1646 کروڑ طئے کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلہ 400 کروڑ کم تھا ۔ حکومت نے بجٹ میں پہلے ہی تخفیف کرتے ہوئے تمام محکمہ جات کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے طور پر معاشی ڈسپلن نافذ کریں۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ریاست کی معاشی صورتحال میں مزید ابتری کے بعد حکومت نے دوسرے مرحلہ میں اقلیتی بہبود سمیت دیگر محکمہ جات کے بجٹ میں مزید کٹوتی کی ہے جس سے اقلیتی بہبود اسکیمات کے بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ 30 اپریل 2019 ء کو محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کردہ جی او آر ٹی 611 میں 6 ماہ کیلئے اقلیتی بہبود کا بجٹ 823 کروڑ روپئے مختص کیا گیا تھا جس میں سے 411 کروڑ 60 لاکھ کی اجرائی عمل میں آئی ۔ جی او کے مطابق مزید 411 کروڑ کی اجرائی باقی تھی۔ (سلسلہ صفحہ )