لکھنؤ:12مئی(سیاست ڈاٹ کام)کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی) نے کورونا وبا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن میں گرتی معیشت پر تبادلہ خیال کے لئے مرکزی حکومت سے سبھی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں،ماہرین اقتصادیات، سماجی کارکنوں کی میٹنگ کا مطالبہ کیا ہے ۔سی پی آئی کے سکریٹری اتل کمار انجان نے منگل کو کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سبھی روزگار اور صنعتی اکائیاں بند ہیں۔ لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا بحران ہے ۔ لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا کے معاملے جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں۔ آنے والے جون۔جولائی میں اس میں اور تیزی آنے کا شبہ ہے ۔ لہذا مرکزی حکومت کو سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں اور ماہرین معاشیات کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہئے اور مسائل کا حل تلاشنا چاہئے ۔میٹنگ میں ریزرو بینک کے سابق گورنر کو بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔انہو ں نے لاک ڈاؤن میں بی جے پی اور غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوںمیں شراب کی دوکان کھلونے کی بھی تنقید کی اور اسے کورونا کو بڑھانے میں معاون قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ شراب خریدنے کے لئے دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں جس طرح سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی ہوئی ہے اسے پورے ملک نے دیکھا۔ ریاستی حکومتوں نے شراب کی دوکانیں کھولنے کی اجازت دے دی لیکن لاک ڈاؤن پر عمل کرنے کا انتظام نہیں کیا۔ اس سے نظم ونسق کا مسئلہ کھڑا ہوگیا اور پولیس کو لاٹھی چارج کرنی پڑی۔انہوں نے بہار کی مثال دیا جہاں گذشتہ پانچ سال سے شراب کی فروخت پر پابندی ہے اور وہاں کی حکومت اپنی معیشت کو سنبھالے ہوئے ہے ۔ شراب کی دوکانوں کو کھولنا اور ریونیو کی کمی کا رونا رونا ریاستی حکومتوں کی اپنی خامی کو چھپانے کا بہانہ ہے ۔