لاک ڈاون میں نرمی اور مائیگرنٹس کی واپسی اصل وجہ ۔ سینئر ڈاکٹرس کا اظہار خیال
کولکتہ 6 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال میں گذشتہ پانچ دنوں میں کورونا وائرس کے 1802 کیسیس درج ہوئے ہیں جبکہ ریاست میں جملہ مریضوں کی تعداد 7303 ہوگئی ہے ۔ دو مہینوں میں پانچ ہزار کیس درج ہوئے ہیں ۔ ریاست میں سرکاری دواخانوں کے سینئر ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ غیر منصوبہ بندی کے ساتھ لاک ڈاون میں نرمی اور مائیگرنٹس کی بڑی تعداد میں واپسی کی وجہ سے ریاست میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ کچھ ڈاکٹرس نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ جو لاک ڈاون لاگو کیا گیا تھا اس کے توقعات کے مطابق نتائج نہیں مل سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے باوجود مائیگرنٹس کو واپسی کی اجازت دی گئی تھی اور اس سے تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ صحت کے ماہرین کی جانب سے مسلسل اس طرح کے اقدامات کے خلاف انتباہ دیا جاتا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیلئے صرف مائیگرنٹس کی واپسی کو ذمہ دار نہیں قرار دیا جاسکتا بلکہ اس کیلئے لاک ڈاون میں نرمی دینے جو جلد بازی کی گئی تھی وہ بھی ذمہ دار ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مکمل لاک ڈاون کو مزید چند ہفتوں تک برقرار رکھا جانا چاہئے تھا ۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست میں لوگ ایک سے دوسرے مقام کو سفر بھی کر رہے ہیں اور سماجی فاصلوں کے اصولوں کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا ہے ۔ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمد و رفت بھی بحال کردی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جنوبی بنگال کے کچھ اضلاع میں خاص طور پر اس وائرس نے اثر دکھایا ہے اور یہاں زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ شمالی بنگال میں تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہاں اس وباء کا بہت کم اثر ہوا ہے اور اب بھی متاثرین کی تعداد کم ہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری ریاستوں سے جو لوگ یہاں واپس ہوئے ہیں ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن میں کورونا کی کوئی علامات نہیں پائی جا رہی ہیں تاہم ان کے معائنوں کی رپورٹس مثبت آ رہی ہیں۔