مفت پانی سربراہی اسکیم کے میٹرس کی مفت تنصیب کا مطالبہ

   


آدھار کا لزوم عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ، کانگریس قائد سمیر ولی اللہ کا بیان
حیدرآباد :۔ کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گریٹر حیدرآباد میں پانی کی مفت سربراہی اسکیم کے لیے برقی میٹرس مفت نصب کئے جائیں اور عوام پر میٹر کی تنصیب کے چارجس کا بوجھ عائد نہ کیا جائے ۔ گریٹر حیدرآباد مایناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر نشین سمیر ولی اللہ نے کہا کہ اسکیم سے استفادہ کے لیے حکومت کی جانب سے 23 جنوری کو جاری کردہ گائیڈ لائنس غیر واضح ہیں اور حکومت کو شرائط میں نرمی پیدا کرنی چاہئے ۔ سخت شرائط سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اسکیم پر عمل آوری میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ جس طرح اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے بعد وعدوں کو فراموش کردیا گیا تھا ٹھیک اسی طرح بلدی الیکشن کے وعدہ کو بھی بھلا دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمر اکاونٹ نمبر کو آدھار سے مربوط کرنے کی شرط سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے ۔ جس میں سرکاری اسکیمات کے لیے آدھار کے لزوم سے حکومت کو روک دیا تھا ۔ غیر سلم علاقوں کے عوام کو واٹر میٹر نصب کرنا ہے جس پر تقریبا 2500 روپئے کا خرچ آئے گا ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اراضیات کے رجسٹریشن کے لیے آدھار کارڈ کی مخالفت کی ہے لیکن حکومت ماہانہ 20 ہزار لیٹر مفت پانی کے لیے آدھار کو لازمی قرار دے رہی ہے جو عدلیہ کی توہین ہے ۔ 50 فیصد سے زیادہ گھروں میں واٹر میٹر نہیں ہیں اور ان سے ماہانہ 200 تا 250 روپئے بل وصول کیا جارہا ہے ۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو ماہانہ 20 ہزار لیٹر پانی استعمال نہیں کرتے ۔ ایسے خاندانوں کو میٹر کے لیے اصرار کرنے کے بجائے زیرو بل روانہ کیا جائے ۔ 9 لاکھ میٹرس کی تنصیب پر 200 کروڑ کا خرچ آئے گا اور حکومت کو یہ بوجھ برداشت کرنا چاہئے ۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ واٹر بورڈ کے پاس صرف ایک لاکھ میٹر ہیں باقی 8 لاکھ کا انتظام کہاں سے کیا جائے گا ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے عوام کی مشکلات کی پرواہ کئے بغیر اسکیم کا اعلان کردیا ہے ۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ عوام سے ہمدردی ثابت کرنے کے لیے واٹر میٹرس مفت فراہم کئے جائیں ۔۔