واٹر ورکس حکام سے کانگریس کی نمائندگی، سلم علاقوں میں اسکیم کے آغاز کا مطالبہ
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا کہ حکومت حیدرآباد میں عوام کو مفت پانی کی سربراہی کی اسکیم پر عمل آوری میں سنجیدہ نہیں ہے۔ گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی کے نائب صدر محمد راشد خاں نے حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے اسکیم کی شرائط سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار کارڈ کی بنیاد پر اسکیم میں شامل کرنے اور صارفین پر اپنے خرچ سے میٹر نصب کرنے جیسی شرائط سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت دیگر انتخابی وعدوں کی طرح اسے بھی صرف زبانی اعلانات تک محدود رکھے گی۔ راشد خاں نے کہا کہ اگر حکومت وعدہ کی تکمیل میں سنجیدہ ہیں تو اسے آدھار کارڈ کی شرط سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آدھار معلومات کی فراہمی کے سلسلہ میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سرکاری اسکیمات کے لئے آدھار تفصیلات حاصل نہیں کی جاسکتی۔ ہائی کورٹ نے اراضیات کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں آدھار تفصیلات پیش کرنے کی شرط پر روک لگا دی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ حکومت عدالت کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مفت پانی کی سربراہی اسکیم کو آدھار سے مربو کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کو آدھار تفصیلات حاصل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کے کمزور مظاہرہ سے پریشان ہیں اور شرائط پر مبنی اسکیم کا اعلان محض ایک دکھاوا ہے۔ راشد خاں نے واٹر ورکس کے عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ سلم علاقوں میں اسکیم پر عمل آوری کا فوری آغاز کیا جا ئے کیونکہ سلم علاقوں کے لئے واٹر میٹر نصب کرنے کی شرط نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 30 فیصد علاقے پانی کی سربراہی سے محروم ہیں جبکہ 50 فیصد علاقوں میں صارفین کے پاس واٹر میٹر موجود نہیں۔ ایسے میں اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صارفین کو واٹر میٹر مفت سربراہ کریں کیونکہ میٹر کی خریدی سے عوام پر مالی بوجھ عائد ہوگا۔