Monday , October 21 2019

مقبوضہ کشمیر پر بھی کسی دن ہندوستان کا قبضہ ہوگا

وہ ہمارا ہی حصہ ۔ چین کے ساتھ کوئی جھڑپیں نہیں ہوئیں۔ وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس
نئی دہلی 17 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر پر اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھی ہندوستان کا حصہ ہے اور اسے امید ہے کہ ایک دن اس پر بھی ہندوستان کا قبضہ ہوگا ۔ ہندوستان نے یہ واضح کیا کہ کشمیر پر ایک حد سے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کیونکہ یہ داخلی مسئلہ ہے جس پر ہندوستان کا قبضہ ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے مودی حکومت کی دوسری معیاد میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے پاکستان کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے ایک پڑوسی سے ایک منفرد چیلنج کا سامنا ہے اور جب تک پڑوسی ملک ایک معمول کا پڑوسی نہیں بن جاتا اس وقت تک یہ چیلنج برقرار رہے گا ۔ اپنی تقریبا 75 منٹ کی پریس کانفرنس میں وزیر موصوف نے کئی مسائل کا احاطہ کیا جن میں ملک کے بیرونی تعلقات ‘ امریکہ کے ساتھ بات چیت ‘ چین کے ساتھ تعلقات اور عالمی مسائل پر ہندوستان کے موقف کا تذکرہ بھی شامل تھا ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے تعلق سے اصل مسئلہ دفعہ 370 نہیں ہے ہے بلکہ اصل مسئلہ سرحد پار سے دہشت گردی ہے اور جو سب سے پہلے بات چیت کی میز پر موضوع آئیگا وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہی رہے گا ۔

بعض مرکزی وزراء کے اس بیان پر کہ پاکستان کے ساتھ اب بات چیت ہوگی تو صرف مقبوضہ کشمیر کے تعلق سے ہوگی ‘ کشمیر کے تعلق سے نہیں جئے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کا موقف اس مسئلہ پر بہت واضح ہے اور رہیگا کہ مقبوضہ کشمیر بھی ہندوستان ہی کا حصہ ہے اور اسے امید ہے کہ ایک دن اس پر بھی ہندوستان کا قبضہ ہوگا ۔ ایس جئے شنکر نے ہندوستان اور چین کی افواج کے مابین گذشتہ دنوں پیش آئے کشیدگی کے واقعہ کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ یہ کوئی جھڑپیں نہیں تھیں بلکہ آمنا سامنا ہوا تھا اور اس کو حل کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان و امریکہ کے مابین جاری مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ دونوں ملکوںکے مابین تعلقات مستحکم ہیں اور ان میں مزید بہتری آتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی تعلقات میں جو کچھ بھی اختلافات ہیں انہیں جلد ہی حل کرلیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات مسلسل بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور کچھ اختلافات ہیں جنہیں حل کرلیا جائیگا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT