Saturday , December 7 2019

مقبول اور محبوب لیڈر شپ کے تقاضے

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ

تلنگانہ حاصل کرنے کا دعویٰ کرنے والے کے چندر شیکھر راؤ کی مقبول اور محبوب لیڈر شپ کو ختم کرنے کی کوششیں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ گورنر سے اپوزیشن قائدین کی ملاقات اور سکریٹریٹ و اسمبلی عمارتوں کی تعمیر رکوادینے کا مطالبہ کے سی آر کے عزائم کو دھکہ پہونچائے گا ۔ بی جے پی اور کانگریس نے مل کر ٹی آر ایس سربراہ کے خلاف مورچہ بنایا تو یہ ایک حیرت انگیز تبدیلی تھی ۔ ٹی آر ایس کی دوبارہ کامیابی اور دوبارہ اقتدار پر آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیاں اپنی اجڑی ہوئی سیاسی صورتحال کو برداشت نہیں کر پارہی ہیں ۔ ریاست میں اب شریفوں کی سیاست نہیں رہی ۔ پھر بھی کے سی آر ایک شریفانہ حکومت چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہریش راؤ بھی وزارت کے بغیر ہی ماما کے سی آر کے ساتھ ہیں ان کے پیچھے پیچھے کے ٹی آر بھی ہیں لیکن کے کویتا کو اب کے سی آر کے قریب نہیں دیکھا جارہا ہے ۔ کل تک کویتا کے سوا کوئی نظر نہیں آتا تھا ۔ کسی بھی سیاسی طاقت کو بے اثر کرنے کے لیے رائے دہندوں کا ووٹ اہمیت رکھتا ہے ۔ اس کا اندازہ شاید کویتا کو ہوگیا ہے ۔ اس لیے وہ اب اپنے والد کی حکومت کے خلاف ایک ’ قائد ‘ حزب اختلاف کا کردار خوب نبھا رہی ہیں ۔ جی ہاں کہنے کی حد تک تو کچھ بھی ہوسکتا ہے سوچنے پر کوئی پابندی نہیں ۔ مگر کے سی آر کی ورک فرام ہوم پالیسی نے یعنی گھر میں پالیسیاں اور منصوبے بنا کر انہیں اسمبلی اور کابینہ سے منظوری دلانے کی حکمت پر آج کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔ اے آئی سی سی سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی سمپت کمار نے یہی الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے گھر میں فیصلے کرنے کے بعد اسمبلی میں منظوری حاصل کررہے ہیں اور یہ ایوان اسمبلی کی توہین کے مترادف ہے ۔ چیف منسٹر کے ارکان خاندان کے سوا کسی کو بھی یہ نہیں معلوم کہ نیا میونسپل قانون کس طرح لاگو ہوگا ۔ اس سے ریاست میں ایک ڈکٹیٹر شپ چل رہی ہے ۔ کابینی وزراء بھی کسی چوں و چارہ کے کے سی آر کے فیصلوں پر اپنی رائے ظاہر نہیں کرتے اور بلوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ سطحی ذہنیت والے لوگ جب بات کرتے ہیں تو خود بخود ان کی ذہنیت اشکار ہوجاتی ہے ۔ ٹی آر ایس کے قائدین کو اس وقت یہ قوی احساس ہے کہ ان کی پارٹی کا کوئی بھی بال بانکا نہیں کرسکتا اور یہ بات فی الحال درست بھی معلوم ہورہی ہے ۔ ٹی آر ایس کے مقابل کوئی بھی پارٹی میدان میں نہیں ہے ۔ بلدی انتخابات میں ہی پتہ چلے گا کہ ٹی آر ایس کا بنیادی سطح پر کتنا وزن ہے ۔ اضلاع میں ٹی آر ایس قائدین بلدی انتخابات کی تیاریاں کررہے ہیں اور اپنے اپنے حامیوں کو ٹی آر ایس ٹکٹ دلوانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پارٹی کی قیادت نے ایک فارمولہ اختیار کرلیا ہے جس کو جی ایچ ایم سی انتخابات میں استعمال کیا گیا تھا سروے کے بعد ہی پارٹی امیدواروں کو قطعیت دی جائے گی ۔ ریاست میں میونسپلٹیز اور کارپوریشنوں کے انتخابات کروانے کے لیے ریاستی الیکشن کمیشن نے پھرتی دکھانا شروع کیا ہے ۔ ٹی آر ایس بھی ان انتخابات میں یکطرفہ کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے اس کے لیے پارٹی کی رکنیت سازی مہم کو تیزی سے کامیاب بھی بنا لیا ہے ۔ ٹی آر ایس کی پارٹی رکنیت سازی مہم بھی کسی تہوار سے کم نہیں تھی ۔ جگہ جگہ ٹی آر ایس کارکنوں نے رکنیت سازی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ پارٹی ورکرس اس زبردست مہم کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ستمبر سے اضلاع کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مقامی افراد کے حالات اور مسائل سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرسکیں ۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ عوام کی دہلیز تک ریاستی نظم و نسق کو پہونچایا جائے ۔

وہ نہ صرف عوام سے بالراست ملاقات کریں گے بلکہ ان کے مسائل کی یکسوئی کے لیے بروقت فیصلہ بھی کریں گے ۔ انہوں نے ہر ضلع سے ضروری رپورٹس بھی طلب کئے ہیں ۔ سرکاری دفاتر میں کام کاج کا بھی نوٹ لیا جائے گا ۔ جن سرکاری محکموں میں لاپرواہی برتی جائے گی وہاں سخت اقدامات کریں گے ۔ اس طرح کی ہدایات اور چوکسی کے باوجود سرکاری محکموں میں کام کاج صرف رشوت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے ۔ حال ہی میں ایک تحصیلدار کو رشوت کے معاملہ میں گرفتار کیا گیا تو اس خاتون تحصیلدار کے گھر سے ایک کروڑ روپئے نقدی اور زیورات دستیاب ہوئے ایسے کئی عہدیدار ہیں جو رشوت حاصل کرنے کے لیے بدنام ہیں مگر چور وہی جو پکڑا جائے جو عہدیدار میڈیا کی آنکھ میں پکڑا جاتا ہے تو اس کے خلاف معمولی کارروائی ہوتی ہے اور چند دن بعد وہ بحال بھی ہوجاتا ہے ۔ سرکاری محکموں اور دفاتر میں جب عملہ ٹوئیٹر ، سوشیل میڈیا اور پورن فلمیں دیکھنے میں مصروف رہے تو عوام کے کام کس طرح نمٹے جائیں گے ۔ دیہی علاقوں کے عوام تو اتنے سیدھے سادھے ہوتے ہیں کہ انہیں عہدیداروں اور سرکاری دفاتر کے معمولی چپراسی سے بھی خوف ہوتا ہے اپنا کام کروانے کے لیے چپراسی سے لے کر عہدیدار کی مٹھی گرم کرتے ہیں ۔ تلنگانہ کے دفاتر میں اب ٹک ٹاک ویڈیوز بھی عام ہوگئے ہیں تو سرکاری ملازمین اپنا کام کاج چھوڑ کر ٹک ٹاک کے لیے ویڈیوز بنانے اور انہیں اپ لوڈ کرنے میں مصروف ہیں ۔ اس طرح کے ایک ویڈیو وائیرل ہوا جس میں کھمم میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے ویڈیو لینے میں مصروف دیکھا گیا ۔ جب یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر وائیرل ہوا تو اعلیٰ حکام نیند سے بیدار ہوئے اور ویڈیو بنانے والے سرکاری ملازمین کو دوسرے مقام کو تبادلہ کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح تبادلوں سے مسئلہ حل ہوگا ؟ سرکاری عہدیداروں کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ دفاتر میں زیر التواء فائیلوں کو نمٹانے سے گریز کرتے ہیں اور جو ضرورت مند اپنی فائیل جلد سے جلد منظور کروانا چاہتا ہے وہ عہدیدار کی مٹھی گرم کردیتا ہے ۔ یہی دینے اور کام کروانے کی عادت نے عہدیداروں کی عادت بدل کر رکھ دی ہے ۔ سرکاری محکموں کی کرپشن لاکھوں اور کروڑوں میں چلی گئی ہے ۔ اگر یہاں بھی دوسرے ممالک کی طرح رشوت میں ملوث افراد کو سزائے موت دی جائے تو کرپشن کے افسوسناک واقعات بھی رونما نہیں ہوتے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں ان کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اور ان کے سر پر معاشی طاقتوں کا ہاتھ ہوتا ہے ۔
kbaig92@gmail.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT