بنگلورو، 24 اکتوبر (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے جمعہ کو اعلان کیا کہ مقررہ وقت کے اندر حکومتی میٹنگوں میں لئے گئے فیصلوں کو نافذ کرنے میں ناکام رہنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے سدارمیا نے کہا کہ کرناٹک ایک ترقی پسند اور صنعت دوست ریاست کے طور پر ابھرا ہے اور اسے اپنے سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرنا چاہیے ۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ صنعتی منصوبوں کی جلد منظوری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی منصوبوں کی منظوری میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے چیف سیکرٹری کو تمام محکموں کو ضروری ہدایات جاری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ جلد ہی ریاست کے صنعتی ماحول کو مزید سرمایہ کاروں کیلئے سازگار بنانے کیلئے قوانین اور ضوابط میں ترمیم پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں شروع کرنے کیلئے درکار زمین کے استعمال میں تبدیلی اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ سمیت مختلف منظوریوں کے اجراء کے ٹائم فریم کو کم کیا جائے۔
اور محکمے اس سلسلے میں تفصیلی تجاویز پیش کریں۔ کرناٹک ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ اور فائر ڈپارٹمنٹ سے منظوریوں میں تاخیر کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ان کے عمل میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے مخصوص ڈیڈ لائن پر عمل کریں بصورت دیگر غلطی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے محکموں کو ہدایت کی کہ وہ صنعتی کلسٹروں کو سڑکوں، پانی اور بجلی جیسے ضروری بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کیلئے تال میل سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ سبز اور غیر روایتی توانائی کے ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی جائے اور ایک منظم منصوبہ بنایا جائے ۔ مرکزی حکومت کی مجوزہ لیبر قانون میں اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ریاست اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کام کے اوقات میں نظر ثانی کرتے ہوئے کارکنوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ۔ انہوں نے یہ شکایات بھی نوٹ کیں کہ سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم کے تحت درخواستوں پر موثر کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ فی الحال، 29 سروسز سنگل ونڈو سسٹم سے باہر ہیں، اور انٹیگریٹڈ کلیئرنس کو یقینی بنانے کیلئے تمام سروسز کو ایک پلیٹ فارم کے تحت لانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے ۔