ملت میں قیمتی ملی ہیروں کی کمی نہیں ، صرف رہنمائی درکار

,

   

l عثمان نگر میں سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کے تربیتی مرکز کی تقریب تقسیم اسنادات کا انعقاد
l جناب افتخار حسین ، جناب ظہیر الدین علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : دنیا کے لا قیمت دس ہیروں میں 5 ہیرے حیدرآباد دکن کے گولکنڈہ کان سے تعلق رکھتے ہیں اور زمانہ قدیم سے ہی سرزمین دکن کو بیش قیمتی ہیروں اور ان ہیروں کی تراش خراش کا اعزاز حاصل رہا ۔ شائد وہی وجہ ہے کہ آج بھی اس سرزمین پر ہیروں کی تراش و خراش کا سلسلہ جاری ہے لیکن زمانے قدیم کے ہیروں اور موجودہ دور کے ہیروں میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے ۔ کانوں سے نکلنے والے ہیروں میں چمک ہوا کرتی تھی اور آج ملت میں جو ہیرے پیدا ہوئے ہیں ان میں چمک تو ضرور پائی جاتی ہے لیکن وہ چمک علم کی اور وہ روشنی علم کی ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملت کے ان قیمتی ہیروں ( ہونہار طلباء وطالبات ) کو تراش و خراش کر کے ایک ملی و قومی اثاثہ میں تبدیل کرنے والوں میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں ، سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ ڈاکٹر مخدوم محی الدین اور فیض عام ٹرسٹ کے دیگر ٹرسٹیز و ارکان سرفہرست ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں نے سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے شدید متاثرہ عثمان نگر میں قائم کئے گئے پیشہ وارانہ کورسیس کے تربیتی مراکز کے تربیت یافتہ لڑکیوں ، خواتین اور نوجوانوں میں اسنادات کی تقسیم کے موقع پر خطاب میں کیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال سیلابی بارش نے عثمان نگر میں بہت زیادہ تباہی مچائی تھی ۔ اس وقت سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے متاثرین کی دل کھول کر مدد کی گئی ۔ کئی مرد و خواتین کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے مالی امداد بھی فراہم کی گئی ۔ ساتھ ہی مختلف سامان بھی فراہم کیا گیا ۔ تقسیم اسنادات کی تقریب کریسنٹ اسکول عثمان نگر میں منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین ( ٹرسٹی ) ، جناب علی حیدر رکن مجلس عاملہ فیض عام ٹرسٹ ، جناب سید حیدر علی رکن مجلس عاملہ و انچارج ، ڈاکٹر متین الجبار ٹیلرنگ اینڈ کمپیوٹر سنٹر ، جناب ایان صدیقی صدر نشین ایان میڈیکل کالج اور جناب عبدالخالق چیرمین کریسنٹ گروپ آف اسکولس ، ڈاکٹر سمیع اللہ ، محترمہ انیس فاطمہ ، ڈاکٹر عبدالوحید ، جناب ہارون و دیگر شخصیتیں موجود تھیں ۔ جناب رضوان حیدر اور محترمہ مروت حسین نے خوبصورت انداز میں نظامت کی ۔ اس موقع پر ٹیلرنگ اور کمپیوٹر کورس کی تکمیل کرنے والے 37 خواتین لڑکیوں اور نوجوانوں میں اسنادات کے ساتھ ساتھ ٹیلرنگ کٹس اور نقد رقم بھی دی گئی ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں نے اپنا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملت میں ہونہار طلباء وطالبات کی کمی نہیں انہیں صرف صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ روزنامہ سیاست کے تحت چلائے جانے والے ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ اس معاملہ میں مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ دونوں اداروں کی فلاحی و ملی سرگرمیاں ہندوستان بھر میں وسعت اختیار کرچکی ہیں ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں اور دیگر مقررین نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ انگریزی زبان پر عبور حاصل کریں ۔ عربی ترجمہ میں مہارت حاصل کریں کیوں کہ مترجمین کی حیثیت سے وہ خدمات انجام دیتے ہوئے ہزاروں لاکھوں روپئے کما سکتے ہیں ۔ جناب افتخار حسین نے اپنے خطاب میں بتایا کہ سیاست ملت فنڈ کے اشتراک و تعاون سے فیض عام ٹرسٹ ملک بھر میں فلاحی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ آفات سماوی ہو یا پھر فسادات ہر موقع پر یہ دونوں ادارے متاثرین و مظلومین کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں ۔ انہوں نے فیض عام ٹرسٹ کی تعلیمی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ آج ہزاروں کی تعداد میں دختران و فرزندان ملت کے تعلیمی اخراجات وہ برداشت کررہا ہے اور اس کے بہتر نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں ۔ اس ضمن میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ساتھ ہی فیض عام ٹرسٹ کے عطیہ دہندگان کے حق میں دعائے خیر بھی کی ۔ تقریب میں فیض عام ٹرسٹ کی ساری ٹیم بشمول منیجر سید عبدالستار ، محمد اعظم ، شیخ اکرم ، وینکٹیش پرساد ، عرشیہ النساء بیگم ، عشرت بیگم ، فرحین بیگم اور دیگر والینٹرس موجود تھے ۔ مقررین نے نوجوانوں کو چبوتروں پر بیٹھ کر یا سگریٹ نوشی تمباکو نوشی یا گٹکھا کھا کر وقت ضائع نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ۔۔