ملک بھر میں 21 دنوں کیلئے مکمل لاک ڈاؤن: نریندر مودی

,

   

٭ خطرناک وائرس سے بچنے کا لاک ڈاون ہی واحد راستہ ۔ عوام کسی بھی قیمت پر گھروں سے نہ نکلیں
٭ کچھ لوگوں کی لا پرواہی سارے خاندان ‘ سارے سماج اور سارے ملک کو بڑی مشکل میں ڈال سکتی ہے
٭ اگر آج 21 دن بند نہیں کیا گیا تو ملک 21 سال پیچھے ہوجائیگا ۔ ملک کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی
٭ میڈیکل انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے 15 ہزار کروڑ روپئے مختص : وزیر اعظم کا قوم سے خطاب

نئی دہلی 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے مہک کورونا وائرس پر آج رات قوم سے پھر خطاب کیا اور اس کے مہلک اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ تمام تیاریوں کے باوجود یہ ساری دنیا کے لئے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ساری دنیا کا احساس ہے کہ اس وباء سے بچنے اور اس پر قابو پانے کے لئے سب سے اہم طریقہ سماجی فاصلہ برتنا ہے یعنی لاک ڈاؤن ہے جس کے ذریعہ ہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ طریقہ صرف مریضوں کیلئے ہے جو بالکل غلط ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ کچھ لوگوں کی لاپرواہی اور غلط سوچ آپ کے خاندان، سماج اور سارے ملک کو بڑی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ اگر یہ لاپرواہی کا سلسلہ جاری رہا تو ملک کو بڑی قیمت چکانی پڑے گی جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ پچھلے دو دنوں سے ملک کے کئی حصوں میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اعلان کہ کیا کہ آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ ہر خاندان اور ہر شہری کو بچانے کیلئے گھروں سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی لگائی جارہی ہے۔ ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر محلہ کو لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے جو ایک طرح سے کرفیو ہی ہے۔ ہر ہندوستانی، ہر خاندان اور سب شہریوں کو بچانا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے اس لئے یہ قدم اٹھا یا جارہا ہے۔ اُنھوں نے تمام شہریوں سے کہاکہ یہ لاک ڈاؤن 21 دنوں کا ہوگا۔ اس لئے جو بھی شہری جہاں بھی ہے وہیں رہے۔ یہ وقت تمام کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے۔ کورونا وائرس کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔ تمام ماہرین کا یہی خیال ہے۔ اگر ان 21 دنوں میں اس پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک 21 سال پیچھے چلا جائے گا۔ اُنھوں نے تمام شہریوں سے بارہا یہ اپیل کی ہے کہ وہ گھر میں ہی رہیں اور گھر کے دروازے پر لکشمن ریکھا کھینچ لیں کیوں کہ گھر سے باہر ایک قدم رکھناکورونا وائرس جیسی مہلک بیماری کو گھر میں لاسکتا ہے۔ یہ بیماری کس طرح اثرانداز ہوتی ہے اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے گھروں پر رہنے کو ترجیح دیں۔ اس سے بچاو کیلئے ماہرین مختلف طریقے بتارہے ہیں۔ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اگر آج کسی میں یہ وائرس ہے تو اس کی علامتیں ظاہر ہونے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اس دوران وہ ایسے تمام افراد کو متاثر کرسکتا ہے جو اس کے رابطہ میں آ تے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم نے کہا ہے کہ ایک ہفتہ میں سینکڑوں لوگوں تک یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔ کورونا وائرس کے پہلے ایک لاکھ لوگوں تک اس کے پہنچنے میں 67 دن لگے اور دوسرے ایک لاکھ تک پہنچنے میں صرف 11 دن لگے اور تیسرے ایک لاکھ تک پہنچنے میں صرف 4 کا وقت لگا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وائرس کس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ امریکہ، اٹلی، جاپان، چین اور دنیا کے دیگر ممالک میں یہ وائرس پھیلنے لگا تو حالات بے قابو ہوگئے۔ ان ممالک کے پاس دستیاب بہترین سہولتیں ہیں اس کے باوجود یہ ممالک اس کے اثر کو کم نہیں کرسکے۔ ان ممالک سے اُمید کی کرن حاصل کی جاسکتی ہے جنھوں نے اس پر کچھ حد تک قابو پایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کے لوگوں نے حکومت کے اقدامات اور ہدایات پر عمل کیا۔ ہمارے سامنے بھی صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ گھر سے باہر نہیں نکلنا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر عام آدمی تک اس وائرس سے بچنے کی یہی صورت یعنی سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہے۔ آج ہمارے ماہرین یہ طے کریں گے کہ کس طرح اس پر قابو پایا جاسکتا ہے اور آپ کو یاد رکھنا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ جب تک ملک میں لاک ڈاؤن ہے سب کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ اُنھوں نے سب سے یہی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم نے مشکل گھڑی میں تمام ان افراد کی خدمات کو یاد کیا جو اس وباء سے متاثرہ افراد کے علاج کیلئے کام کررہے ہیں۔ ان لوگوں کیلئے دعا کرنے کی وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی۔ میڈیا کے لوگوں سے بھی اظہار تشکر کیا جو 24 گھنٹے گھر والوں کی فکر کئے بغیر دن رات ڈیوٹی کررہے ہیں اور بعض لوگوں کی برہمی کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت اس پر قابو پانے تمام اقدامات کررہی ہے اور کئی اہم فیصلے بھی کئے ہیں۔ اس مقصد کیلئے 15 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ جس کے ذریعہ تمام آلات اور دیگر اشیاء تیار کی جائیں گی جبکہ طبی اور نیم طبی عملہ کو تربیت دی جائیگی۔ اُنھوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاکہ ملک کا خانگی شعبہ بھی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے۔ ان حالات میں افواہیں بھی گشت کررہی ہیں۔ اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ ڈاکٹروں کی صلاح کے بغیر اس وائرس سے بچنے کوئی دوا نہ لیں اور حکومت کی ہدایات پر عمل کریں۔ وقت لمبا ہے لیکن زندگی کے تحفظ کیلئے اہم اور ضروری ہے۔ اُنھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ ہر شہری مشکل گھڑی میں پورے عزم و حوصلہ سے کام کرے گا اور صبر کے ساتھ قوانین کی پابندی کرے گا۔