ون نیشن ون الیکشن تجویز کی مخالفت، امیر جماعت اسلامی ہند جناب سعادت اللہ حسینی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے ملک میں مسلمانوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے آج نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر اور ہریانہ میں نئی حکومتوں کے قیام اور دونوں ریاستوں کے مسائل پر حکومتوں کو توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی ریاست کی حیثیت کو بحال کرنے پر مرکز کو توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور بلاتفریق تمام کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے۔ امیر جماعت اسلامی نے ملک میں مسلمانوں اور اُن کی عبادت گاہوں کے خلاف تشدد اور حملوں کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جھوٹے الزامات کے تحت مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ عبادتگاہوں کو مسمار کرنے کے لئے بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ حالیہ دنوں گرسومناتھ ضلع میں 500 سالہ قدیم قبرستان اور مسجد کو گجرات کے حکام نے منہدم کردیا۔ سومناتھ میں انہدامی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے جماعت اسلامی کے اعلیٰ سطحی وفد کو روانہ کیا گیا تھا جس میں نائب امیر سلیم انجینئر اور قومی سکریٹری شفیع مدنی موجود تھے۔ سلیم انجینئر نے سومناتھ کی غیر قانونی انہدامی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ اُنھوں نے کہاکہ 200 ایکر کے علاقہ میں متعدد درگاہوں، مقبروں، مسجد اور قبرستان کو منہدم کردیا گیا۔ اُنھوں نے انہدام کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے نفرت انگیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ تبصرے کرنے والے مجرمین کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں۔ ملک کے رہنماؤں، دانشوروں اور مذہبی شخصیتوں کی ذمہ داری ہے کہ نفرت انگیز بیانات کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ ون نیشن ون الیکشن پر امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ اِس فیصلے سے ریاست کے مسائل حاشیہ پر چلے جائیں گے اور ملک کا وفاقی ڈھانچہ کمزور ہوگا۔ علاقائی جماعتوں کو کمزور کرنے کی سازش کے تحت یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔ جنگ کی صورت میں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ فلسطین مسئلہ کے مستقل حل کو روکنے کے لئے اسرائیل کی جانب سے حملے کئے جارہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے۔ مرکزی حکومت اپنی خاموشی توڑے اور اعتدال پسند عرب ممالک کے ساتھ کشیدگی کو روکنے اقدامات کرے۔ 1