کہیں پولیس کی زیادتی تو کہیں ماب لنچنگ، حالات دانستہ خراب کئے جارہے ہیں ، سابق آئی پی ایس آفیسرانصاری کی تشویش
بھوپال : اس وقت ملک کے حالات انتہائی سنگین اور بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہوگئے ہیں یا دانستہ خراب کئے جارہے ہیں۔ ملک میں جگہ جگہ تشدد ہو رہے ہیں۔ کہیں کوئی نوجوان پولیس کی زیادتی کا شکار ہو رہا ہے تو کہیں بھیڑ کسی معصوم انسان کو قتل کر دیتی ہے ۔ابھی حال ہی میں اتر کاشی میں رونما والے واقعات نہایت ہی افسوسناک ہیں۔ان خیالات کا اظہار سابق آئی پی ایس افسر ایم ڈبلیو انصاری نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ان تمام واقعات اور ظلم و تشدد کے باوجود دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی وغیرہ نے بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔آخر یہ سیاسی پارٹیاں کب کھل کر اس ظلم وناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گی۔ کیا اسے ان پارٹیوں کا دوغلہ پن نہ کہا جائے ؟ آخر کب یہ سیاسی پارٹیاں حکمت عملی بنائیں گی۔کیا ان پارٹیوں کو متحد ہوکر جبرو تشدد کے خلاف مورچہ نہیں کھولنا چاہئے ؟سابق آئی پی ایس افسر نے بی جے پی سے وابستہ مسلم لیڈران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ستم بالائے ستم یہ کہ مسلم لیڈران جو بی جے پی کی سیوا (خدمت)میں لگے ہوئے ہیں یا یوں کہیں کہ بی جے پی کے اندر ہوتے ہوئے خود کی سیوا کر رہے ہیں۔ یہ تمام لوگ بھی ظلم وتشدد کے خلاف آواز اُٹھانے کی ہمت نہیں کرپا رہے ہیں۔کم از کم انہیں تو اپنی طاقت کا، اپنے اقتدار کا، اپنے پاور کا استعمال کرکے ظلم اور ظالم کے خلاف مورچہ کھولنا چاہئے تھا لیکن افسوس! جب کہ بی جے پی میں موجود مسلم لیڈران اس تشدد کا شکار ہوئے ہیں اور مصلحتاً نہیں بلکہ بزدلی اور اخلاقی جرأت کا فقدان کہیے کہ منھ پر تالا لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔کیا شاہنوازحسین، مختارعباس نقوی اوردیگر مسلم لیڈان جو راشٹریہ مسلم منچ سے وابستہ ہیں، وہ آواز بلند نہیں کر سکتے ۔انصاری نے الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹرا کے بیشتر علاقوں میں مسلم طبقہ کے افراد کو مارا پیٹا اور جیل میں ڈالا جا رہا ہے ۔مزیدبرآں اتراکھنڈ میں اعلانیہ طور سے 40 گھروں کے مسلمانوں کو گھر سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا گیا جس میں ذرائع کے مطابق35ً لوگ گھر چھوڑ کر ڈر کی وجہ سے چلے گئے ۔اترا کھنڈ کے مسلمانوں کو جانی اور مالی دونوں طرح کا بہت نقصان ہوا ہے ۔اس آمرانہ رویہ سے مدھیہ پردیش حکومت بھی مستثنیٰ نہیں۔اس ملک کی تہذیب ہمیشہ سے گنگا جمنی رہی ہے لیکن حکومت نے گنگا جمنا تہذیب کی علامت حجاب کے بہانے سے دموہ کے گنگا جمنا اسکول پر بلڈوزر چلوا دیا ہے ۔یہ محض ایک مخصوص طبقہ کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے ۔پہلے آسام میں پوسکو ایکٹ اور دیگر وجوہات سے پھر یوپی میں تو جگہ جگہ تشدد ہوئے ، الغرض یوپی تو تشدد کا گڑھ بن کر رہ گیا ہے ۔ خواتین کی عصمت دری ہو، ماب لنچنگ ہو، کورٹ میں قتل ہو یا پھر پولیس کی حراست میں قتل ہو، یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور پولیس ایڈمنسٹریشن اور تمام سیاسی پارٹیاں تماش بین بنی ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ منی پور گزشتہ57 /دنوں سے جل رہا ہے ۔شاید ہی کوئی ایسا صوبہ ہو جہاں ایس سی -ایس ٹی، دلت اور خاص کرکے اقلیت لوگ شکار نہ ہو رہے ہو۔منی پور میں جو آج جل کر راکھ ہو گیا ہے ۔اب اسے بحال ہونے میں برسوں لگ جائیں گے ۔