ملک چھوڑ دیں، ہم آپ کی نعشیں دفنانا نہیں چاہتے

,

   

یوکرینی صدر کا انتباہ‘ پوٹین سے راست بات چیت ہی جنگ روکنے کا واحد راستہ
بڑے شہروں میں بمباری جاری، 227 عام شہری ہلاک: اقوام متحدہ

کیف: روس کا یوکرین کے بڑے شہروں پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔بعض شہروں پر قبضہ کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اس درمیانیوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے روسی فوجیوں کو ملک سے نکلنے کا پیغام دیا ہے۔یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہیکہ روسیوں کو خود بھی نہیں پتا کہ وہ یوکرین میں کیوں موجود ہیں۔ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ ہمارے فوجی اور بارڈر گارڈز ہمارے محافظ ہیں حتیٰ کہ ایک معمولی کسان بھی روزانہ روسی فوجیوں کو پکڑرہا ہے۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روسیوں کو خود بھی نہیں پتا کہ وہ یوکرین میں کس لیے موجود ہیں۔زیلنسکی نے روسی فوجیوں کو خبردار کیا وہ ان کے ملک سے نکل جائیں کیونکہ یوکرین آپ کی نعشوں کو دفنانا نہیں چاہتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر حملہ آور کو پتا ہونا چاہیے کہ وہ یوکرین سے کچھ حاصل نہیں کرسکے گا حتیٰ کہ ایک کنکر بھی نہیں، اگر وہ مزید ہتھیاروں اور مزید فوجیوں کو بھی لاتے ہیں تب بھی ان کے لیے کچھ تبدیل نہیں ہوسکتا، انہیں ہر جگہ تباہ و برباد کیا جائے گا۔دوسری طرف یوکرین کے صدر اولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ روسی صدر پوٹین سے راست بات چیت ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی اتحادی ممالک سے فوجی مدد کی درخواست بھی کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین گرتا ہے تو بالٹک ممالک کی باری ہوگی ۔میڈیا کے مطابق انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگرآپ کے پاس فضائی دفاع کی صلاحیت نہیں ہے تو ہمیں طیارے دے دیں، اگر ہم نہ رہے تو یقین کریں کہ اس کے بعد لیٹویا، لیتھوانیا اور ایسٹونیا کی باری ہے۔ اسی دوران بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر دوسرے مرحلہ کی امن بات چیت کا آغاز ہوا ۔ توقع ہے کہ اس بات چیت میں یوکرین انسانی بنیادوں پر راہداری کھولنے کا مطالبہ کرے گا ۔ روس نے انتباہ دیا ہے کہ یوکرین قیادت مذاکرات میں تاخیر کرتی ہے تو روس کے مطالبات کی فہرست میں مزید اضافہ ہوگا۔ روس کی بمباری میں عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی جارحیت سے اب تک 227 عام شہری ہلاک ہو ئے ہیں۔ اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا کہ یوکرین میں روسی حملوں سے ہلاک افراد میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ یوکرین میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
24 فروری سے اب تک روسی حملوں میں 552 شہری زخمی ہوئے ہیں۔یو این کے مطابق فضائی حملے، ملٹی لانچ راکٹ سسٹم اور ہیوی آرٹلری شیلنگ ہلاکتوں کا باعث بنی ہیں۔ یوکرین حکومت کے مطابق انہیں جنگ زدہ علاقوں سے معلومات کے حصول میں تاخیر کا سامنا ہے۔