عالمی قانون اور انسانی جانوں کے دفاع میں دو ٹوک بات کرنا چاہیے
نئی دہلی ۔5؍مارچ ( ایجنسیز ) امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مسلسل حملے اور ایران کی جوابی کارروائی خطہ میں تباہی مچا رہی ہے۔ کشیدہ ماحول کانگریس قائد راہول گاندھی نے حکومت کی خاموشی پر پھر سوال اٹھایا اور کہا کہ دنیا ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالات مزید خراب ہونے والے ہیں لیکن ہندوستان اب بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔کانگریس لیڈر نے ایکس پر لکھا کہ ہندوستان کی تیل سپلائی خطرے میں ہے کیونکہ ہماری درآمدات کا 40 فیصد سے زیادہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ایل پی جی اور ایل این جی کے معاملے میں صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔ تنازعہ ہمارے دروازے تک پہنچ چکا ہے اور بحر ہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز ڈبو دیا گیا ہے اس کے باوجود وزیر اعظم نے کچھ نہیں کہا۔ ہندوستان کے پاس ایک ایسا ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم ہے جس نے ہماری اسٹریٹجک خودمختاری سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔راہول نے لکھا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی جانوں کے دفاع میں ہمیں صاف اور دو ٹوک انداز میں بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ ہماری خارجہ پالیسی خود مختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے اور اسے اسی تسلسل کے ساتھ برقرار رہنا چاہیے۔