کھمم میں اجلاس، مولانا سعید احمد قاسمی و دیگر علماء کا خطاب
کھمم : کھمم جمعیۃ العلماء ہند کا اجلاس آج صبح مسجد عزیز ملت احاطہ مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم کھمم میں صبح 10.30بجے حافظ امیر الدین کے قرات کلام پاک سے آغاز ہوا۔ مولانا سعید احمد قاسمی صدر جمعیۃ العلماء ضلع کھمم ، مفتی جلال الدین قاسمی سیکریٹری ضلع جمعیۃ العلماء کھمم نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ جمعیۃ العلماء وہ تنظیم ہے جو ملک کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ہمارا ملک جب انگریزوں کے قبضہ میں تھا ، اور انگریزوں کی جابر حکومت ظلم و بربریت کا شکار تھا اس وقت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے انگریزوں کو ہمارے ملک کی سر زمین سے نکالنے کیلئے جم کر تعاقب کیا ۔ انگریزوں کی جابر حکومت اور انگریزوں کی غلامی سے ملک کو آزاد کرانے میں جمعیۃ العلماء ہند نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ تحریک ریشمی رمال کے ذریعہ انگریزوں کی جابر حکومت کا تعاقب کرتے ہوئے سر زمین ہند سے انگریزوں کو رفوچکر ہونے پر مجبورکیا۔انگریزوں نے مولانا مدنی ؒ کو مالٹا کی جیل میں قید بند کیا جو 3سال 7مہینہ مولانا مدنی اسیر مالٹا رہے تب جاکر یہ ملک آزاد ہوا۔آج جمعیۃ العلماء ملک میں ہر موڑ پر چاہے وہ آفات سماوی ہو یا فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ ہو اور ملک میں گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے جمعیۃ العلماء ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔اس موقع پر مہمان خصوصی حافظ پیر خلیق احمد صابر سکریٹری جمعیۃ العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ العلماء کا مقصد ملک میں اسلامی تشخص اور گنگا جمنی تہذیب کی برقراری اور قومی یکجہتی کو پروان چڑھانے اور خدمت خلق ہے۔ پورے ملک میں جمعیۃ العلماء ہند کے ایک کروڈ کارکنان ہے۔ جمعیۃ العلماء یوتھ کلب کے 50000کارکنان ہمیشہ ملک کی حفاظت اور ملک کے غریب عوام کی خدمت کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔ ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش میں جمعیۃ العلماء کے 30000ممبران ہیں۔مہمان مقرر نے کہا کہ کھمم ضلع میں بھی جمعیۃ العلماء کی ممبر سازی مہم کو مکمل انجام دینے کی ضلع کے علماء و حفاظ و ائمہ مساجد سے گذارش کی ہے کہ عوام کو جمعیۃ العلماء کی کارکردگی سے واقف کراتے ہوئے انہیں جمعیت کا رکن بنائے۔ اس موقع پر مفتی علاء الدین قاسمی، مولانا عبدالستار قاسمی، مولانا حمایت اللہ ، مولانا عبدالغنی رشادی، مفتی عمر فاروق ستوپلّی ، مولانا عبدالکریم رشادی کتہ گوڈم، مولانا عنایت اللہ رشیدی یلندو، ماسٹر زبیرکتہ گوڑم کے علاوہ ضلع کے علماء و حفاظ کی کثیر تعداد موجود تھی۔