ملک کے سیاسی منظر نامہ کو بدلنے میں اردو صحافت کی رائے پر گہری نظر

   

اردو اخبارات کی خبروں اور اداریوں پر خصوصی توجہ ۔ متبادل حکمت عملی پر غور جاری
حیدرآباد۔27۔جون(سیاست نیوز) ملک کے بدلتے سیاسی منظر نامے میں ’اردو صحافت‘ کی رائے کی اہمیت میں اضافہ ہونے لگا ہے اور جو لوگ یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے تھے کہ صحافت بالخصوص ’اردو صحافت ‘ کی اب کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں تیزی سے پرنٹ میڈیا زوال پذیر ہورہا ہے وہی اب اردو ذرائع ابلاغ و صحافتی اداروں کی رائے اور ان کی حکمت عملی و منصوبہ بندی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کرناٹک انتخابات میں مسلم ووٹرس کے رجحان کو دیکھتے ہوئے انگریزی صحافتی و میڈیا نے اردو اخبارات کی خبروں واداریہ جات پر نظر رکھنی شروع کردی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیںکہ اردو اخبارات مسلمانوں کی ذہن سازی اور انہیں متحد کرنے میں کیا رول ادا کر رہے ہیں۔ کرناٹک نتائج نے نہ صرف زعفرانی قوتوں بلکہ ان کی مددگار تنظیموں و اداروں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو بھی مسلمانوں کے متعلق نظریات پر از سر نو غور کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ اردو صحافت میں شائع ہونے والی خبروں پر نظر رکھتے ہوئے منصوبہ بنانے والے برسراقتدار جماعت کے ہمنوا مسلمانوں کے درمیان اردو اخبارات کے ذریعہ پیدا ہونے والے شعور سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسے میڈیا اداروں کو جنہیں ’گودی میڈیا‘ کہا جارہا ہے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اردو صحافتی اداروں کی جانب سے مسلم اتحاد کی کوششوں پر نظر رکھیں اور اس کے جواب کی تیاری میں مدد کریں۔ برسراقتدار جماعت کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد کے بعد اردو اخبارات کے نظریات اور سیاسی جماعتوں کو اخبارات کے مشوروں اور سیاسی جماعتوں کے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوششوں کی تمام تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ملک میں اپوزیشن اتحاد کی مخالفت کرنے والوں کو اردو اخبارات میں جگہ نہ دیئے جانے اور ان کے نظریات کو فروغ نہ دینے کا بھی نوٹ لیا جا رہاہے اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کوآپسی نظریات اور شخصی اختلافات کی بجائے بی جے پی کو شکست دینے کے واحد نکاتی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے کے مشوروں کا بھی جواب دینے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ مسلمانوں کو متحد کرنے اور انہیں بی جے پی کے خلاف ووٹ کے استعمال کی ترغیب دینے شعور بیداری مہم کو بے اثر کرنے مسلمانوں کے ذریعہ ہی نقصان پہنچانے اورمخالف اتحاد رائے کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔م