ملک کے قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں:راجناتھ سنگھ

,

   

ہندوستان اب کمزور ملک نہیں رہا ، جموں و کشمیر کیلئے ورچول ریالی سے وزیر دفاع کا خطاب

نئی دہلی ۔ /14 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان جاری تنازعہ سے متعلق کسی کو بھی اندھیرے میں نہیں رکھا جائے گا ۔ مناسب وقت پر حکومت ہر چیز کا اظہار کرے گی ۔ اس وقت ہندوستان اور چین کے درمیان ایک مسئلہ ہے ۔ بعض افراد اس سے متعلق مختلف سوالات کررہے ہیں اور یہ دریافت کیا جارہا ہے کہ لداخ میں ہندوستان اور چین کی سرحد پر کیا ہورہا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وقتاً فوقتاً اس سے متعلق اطلاعات فراہم کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک جمہوری طریقہ کار موجود ہے ۔ ملک میں اپوزیشن کی اہمیت کو وہ سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان اس وقت فوجی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ چین بھی اس مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کا خواہشمند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بھی فوجی سطح پر اور سفارتی سطح پر اس کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے تمام قائدین سے کہنا چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت اس مسئلہ پر کسی کو بھی اندھیرے میں رکھنا نہیں چاہتی ۔ نہ حکومت ملک کی پارلیمنٹ کو اور نہ ہی کسی فرد کو اس سے متعلق اندھیرے میں رکھے گی ۔ مناسب وقت پر تمام تفصیلات کا انکشاف کیا جائے گا ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کے قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ قومی سلامتی کی سطح پر ہندوستان طاقتور بن کر ابھر رہا ہے ۔ ہندوستان اب کمزور ملک نہیں رہا ۔ ہندوستان کے پاس بڑی طاقت ہے لیکن وہ اپنی طاقت سے کسی کو ڈرانا نہیں چاہتا بلکہ ملک کی سلامتی کیلئے وہ اپنی طاقت میں اضافہ کررہا ہے ۔ جموں و کشمیر کیلئے ’’جموں جن سمواد ورچول ریالی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لداخ کے علاوہ پاکستان مقبوضہ کشمیر اور دیگر کئی امور پر بات چیت کی ۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی تقریر کے بہت بڑے حصے میں حکومت کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا جن میں دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی وغیرہ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے ایک دہا قدیم وعدہ کو پورا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کی ترقی کی عہد کی پابند ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ حکومت ہند کی جانب سے مظفرآباد اور گلگت ۔ بلتستان کے موسم کی رپورٹ پیش کی جارہی ہے اور اس کی گرمی اسلام آباد محسوس کررہا ہے ۔ حکومت جموں و کشمیر کو اس حد تک ترقی دے گی کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حسد ہوگی اور وہ پاکستان کے بجائے ہندوستان کے ساتھ ہونے کا مطالبہ کریں گے ۔