روش کمار
ہمارے ملک میں وی آئی پی کلچر بڑی تیزی کے ساتھ فروغ پارہا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ دنیا بھر خاص کر مغربی مملکوں میں ہندوستان کو وی آئی پی کلچر سے متاثر ملک کہا جارہا ہے۔ یہ بات اس قدر عام ہیکہ مغربی میڈیا میں ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں وی آئی پی کلچر کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ وی آئی پی کلچر کے نتیجہ میں لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ مشکلات و پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2017ء میں جس وی آئی پی کلچر کے ختم ہوجانے کے دعوے کئے گئے 2026ء میں وی آئی پی کلچر چاروں طرف دھوم دھام سے اپنا جلوہ بکھیر رہا ہے۔ ہندوستان میں کبھی وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہوسکتا نہ کم ہوسکتا ہے۔ دفتر وزیراعظم کے عہدیدار بنکر کہیں کا سفیر بن کر ایس پی بن کر بہت سارے دھوکہ باز وقت وقت پر وی آئی پی تحفظ حاصل کرتے رہتے ہیں لوگوں کو ٹھگتے رہتے ہیں۔ اے آئی سمٹ کے دوران بھی وی آئی پی کلچر کی وجہ سے جو بھگدڑ مچی اس سے ان ملکوں کے صحافی صدمہ میں چلے گئے جو وی آئی پی کلچر سے واقف نہیں تھے انہیں یہ نہیں معلوم کہ ہندوستان میں عوام کو اس بات کا بخوبی پتہ ہے کہ وی آئی پی کلچر کی وجہ سے ٹریفک جام ہوجاتی ہے لیکن عوام اس سے پریشان ہے کہ اس کے خلاف انہوں نے آج تک کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا ہے۔ 17 فروری کو وزیراعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر کا ممبئی میں ایک پروگرام ہوا اس کے نتیجہ میں وہاں 7 گھنٹوں تک ٹریفک رخ موڑ دیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس ٹریفک خلل میں پھنسے لوگ 7 گھنٹے کی جام کو ان دنوں کیسے یاد کرتے ہیں۔ ہندوستان کے لوگوں نے ٹریفک جام کو لیکر کسانوںکی طرح کبھی کوئی بڑا احتجاج منظم نہیں کیا لیکن پونہ ممبئی ایکسپریس وے پر کھوپولی کے پاس تیل کا ایک ٹینکر پلٹ گیا۔ 32 گھنٹے تک ٹریفک میں خلل رہا۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس خلل میں پھنسے لوگوں سے جو ٹول ٹیکس وصول کیا گیا اسے واپس کیا جائے۔ 5 کروڑ سے زائد کی رقم واپس کی جائے گی۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے لیکن ٹریفک جام میں پھنسنے کی وجہ سے ہرجانہ مانگنے یا دینے کی شروعات تو ہوئی۔ گزشتہ سال جون میں اندور۔ دیواس ہائی وے پر تقریباً 8 کیلو میٹر تک ٹریفک جام ہونے سے 30 گھنٹوں میں 3 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ہزاروں گاڑیاں پھنسی رہی۔ کیا ان گاڑی والوں کو ٹول ٹیکس واپس کیا گیا۔ ہم نے انٹرنیٹ پر سرچ کیا لیکن ایسی کوئی خبر نہیں ملی۔ اس ٹریفک جام میں 4 ہزار سے زائد گاڑیاں پھنسی رہی۔ دو لوگوں کی موت گھبراہٹ سے دل کے دورہ کی وجہ سے ہوئی اور ایک کینسر مریض کی موت ہوگئی جنہیں علاج کیلئے ہاسپٹل لے جایا جارہا تھا تو ہندوستان ایک وی آئی پی کلچر کا حامل ملک ہے لیکن کیا عوام وی آئی پی کلچر سے پریشان ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کبھی نہیں بھولے۔ 2014ء سے وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ وہ پردھان سیوک ہیں ان کی حکومت خدمت کے جذبہ کے تحت کام کرتی ہے یہ اور بات ہے کہ خادم الاول ہونے کی بات جواہر لال نہرو نے کہی اور تین مورتی بھون کی تختی پر اس ضمن میں ایک پیام بھی درج تھا۔ اب وہ تختی وہاں پر ہے یا ہٹادی گئی پتہ نہیں۔ اکنامسٹ کو اس بات کا دھکہ پہنچا ہے کہ خود کو عوام کا خادم (سیوک) کہنے والے وزیراعظم مودی وی آئی پی کی طرح آتے جاتے ہیں اور ان کیلئے لوگوں کو گھنٹوں سڑکوں پر روک کر انتظار کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ میگزین نے لکھا ہیکہ سمٹ کا پیغام AI کی دوڑ میں ہندوستان کی حصہ داری کو دکھانا تھا لیکن دنیا بھر سے آئے ہزاروں لوگوں نے دلی کا وی آئی پی کلچر بھی دیکھا۔ عام لوگوں پر بیاگ سے لیکر لیاپ ٹاپ، ہینڈ سینیٹائزر اور پانی کی بوتل لے جانے پر روک تھی۔ ایک دن وی آئی پی کے علاوہ سب کیلئے سڑک بند کردی گئی جس وجہ سے عام لوگوں کو دیڑھ تا دو کیلو میٹر پیدل چلنا پڑا۔ شہر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاکہ وی آئی پی کیلئے آسانی ہوسکے۔ ایک ہفتہ تک لوگوں کو ان پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ دہلی ایرپورٹ پر طیارے بھی تاخیر سے پرواز بھرنے لگے۔ ہمارے وزیراعظم خود کو پردھان سیوک کہتے ہیں ان کے خیال میں ’’میں پردھان منتری نہیں پردھان سیوک کی حیثیت سے آپ کے درمیان آیا۔ میں حکمراں کی شکل میں نہیں سیوک کی شکل میں آیا ہوں‘‘۔ اب تو بات خادم سے نکلکر کرتویہ بھون، سیواتیرتھ تک پہنچ گئی ہے۔ بھونوں اور مارگوں کے نام بدل دیئے گئے ہیں جن میں سیوا (خدمت) کی اہمیت خوب نظر آتی ہے۔ اس کے بعد بھی لوگ وی آئی پی شخصیتوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے بدحال کردیئے جاتے ہیں۔ اکنامسٹ کے مضمون کی سب سے اچھی بات ہے مضمون چھوٹا ہے۔ چھوٹا ہونا اس لئے اچھا ہے کیونکہ ہندوستان میں ٹریفک خلل سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ بی جے پی یا مودی حکومت اکنامسٹ کے اس کھیل کو مغرب کا پروپگنڈہ نہیں بتاسکتی۔ ہندوستان کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش بھی قرار نہیں دی جاسکتی۔ اپریل 2017ء میں من کی بات میں خود وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ وی آئی پی کلچر کے تئیں لوگوں میں نفرت ہے وہ کہتے ہیں ’’عام طور پر ہمارے ملک میں وی آئی پی کلچر کے تعلق سے ایک نفرت کا ماحول ہے لیکن یہ اتنا گہرا ہے کہ مجھے ابھی ابھی تجربہ ہوا جب حکومت نے طئے کردیا کہ اب ہندوستان میں کتنا ہی بڑا شخص کیوں نہ ہو وہ اپنی گاڑی پر سرخ بتی لگا کر نہیں گھومے گا‘‘۔ لال بتی ؍ سرخ بتی ہٹانے سے کیا ٹریفک ہلکی ہوجاتی ہے۔ وی آئی پی کلچر ختم ہوجاتا ہے یا ہوگیا کیا لیڈران سڑک پر الگ طرح سے برتاؤ کرنے لگے ہیں۔ 2017ء کے سال میں گودی میڈیا نے ایسا سماں باندھا لگا واقعی میں وی آئی پی کلچر ختم ہوگیا ہے۔ اس پر درجنوں مضامین لکھے گئے۔ کم سے کم 2026ء میں گودی میڈیا کو جانچ کرنی چاہئے کہ AI سمٹ کے وقت وی آئی پی کلچر کیسے نظر آرہا تھا۔ اسی ماہ 2017ء کے اپریل میں پی آئی بی نے ایک پریس نوٹ جاری کیا کہ لال بتی ہٹائی جارہی ہے۔ یہ وی آئی پی کلچر کو بڑا دھکہ ہے۔ نیوز آرٹیکل شائع ہونے لگے کہ اب کوئی لال بتی نہیں ہوگی۔ وزیراعظم نے اعلان کردیا ہے کہ اب ہر کوئی وی آئی پی ہے۔ مودی جی نے پرزور انداز میں کہا تھا ’’جدید ہندوستان کا ہمارا قصور یہی ہے کہ ملک میں وی آئی پی کی جگہ پر EPI ہوگا اور جب میں VIP کی جگہ EPI کہہ رہا ہوں تو میرا نقطہ نظر یہ ہیکہ ہر شخص اہم ہے‘‘ خطاب میں باتیں کتنی اچھی ہیں لیکن AI سمٹ کے دوران آئے لاکھوں لوگ پیدل بھٹکتے رہے۔ وی آئی پی کی وجہ سے کئی پروگرامس میں لوگ پریشان رہے۔ کوئی کیاب نہیں تھی شٹل سرویس بند تھی اور پیدل چلنے کیلئے کہہ دیا گیا۔ بین الاقوامی مہمانوں کو کیسا لگا ہوا، معذورین کو بھی پریشانی ہوئی۔ 2017ء میں موٹر وہیکل قواعد میں تبدیلی کی گئی۔ گڈکری کے بارے میں ہیڈلائن شائع ہونے لگی کہ وہ ایسے پہلے وزیر بن گئے ہیں جنہوں نے سرخ بتی ہٹادی۔ بنا سرخ بتی کے زندگی کیسے ہوتی ہے اسے لیکر ان کے انٹرویو میں سوال ہونے لگے۔ 2015ء سے گڈکری دہلی سے ٹریفک جام ختم کرنے کی باتیں کررہے ہیں اور 2026ء آگیا وہی باتیں دہرائی جارہی ہیں۔ دہلی میں ٹریفک جام تب بھی ہوتا ہے جب وی آئی پی کی نقل و حرکت نہیں ہوتی ہے۔ تب بھی لوگ کسی پر الزام عائد نہیںکرتے۔ حکومت سے سوال نہیں کرتے بس ہارن بجاتے رہتے ہیں۔ کار چھوجائے تو اتر کر مارپیٹ کرنے لگ جاتے ہیں اور ٹریفک جام مزید طویل ہوجاتا ہے۔ دہلی انتخابات سے پہلے جنوری 2025ء میں گڈکری کا ایک بیان تھا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت آئے گی تو ٹریفک جام اور آلودگی سے چھٹکارہ مل جائے گا لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکا۔
راہول کو چپ کروانے میں حکومت ناکام
اب چلتے ہیں راہول گاندھی کی طرف لوک سبھا میں روکے جانے کی کسر راہول گاندھی نے بھوپال کے کسان مہا پنچایت میں پوری کرلی۔ ایپسٹین فائلز ہردیپ سنگھ پوری، انیل امبانی، دباو میں بنا کابینی منظوری کے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ اور وہ بھی وزیراعظم کا یکطرفہ فیصلہ ان سب مسائل پر راہول خوب بولے۔ انہوں نے سابق فوجی سربراہ جنرل نروانے کی کتاب کا بھی ذکر کیا۔ اس کتاب کا اقتباس وہ لوک سبھا میں پڑھنا چاہتے تھے مگر انہیں اجازت نہیں دی گئی لیکن بھوپال میں کسانوں کے درمیان بتانے لگ گئے کہ چین نے جب حملہ کیا تب مودی حکومت نے کیا کیا تھا۔ راہول نے کہا ’’ہندوستان کی تاریخ میں اس سال پہلی بار لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا۔ میں نے تقریر شروع کی تھی مجھے روکا گیا پھر شروع کی پھر روکا گیا۔ میں نے نروانے جی کی بات اٹھائی۔ نروانے جی نے کتاب لکھی ہے اس میں انہوں نے صاف لکھا کہ جب چین کے ٹینکر ہندوستان کی سرحد کے اندر آرہے تھے انہوں نے راجناتھ سنگھ جی کو فون کیا ان سے پوچھا میرا آرڈر کیا ہے راجناتھ سنگھ نے جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد اجیت ڈوول کو فون کیا کہ چین کے ٹینک ہندوستان کے اندر آرہے ہیں مجھے کیا کرنا چاہئے آرڈر بتائیے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد جئے شنکر جی کو فون کیا۔ ہندوستان کے فوجی سربراہ نے ان سے کہا کہ دیکھئے چین فوج چینی ٹینک اندر آرہے ہیں مجھے کیا کرنا ہے کوئی جواب نہیں اس کے دو گھنٹے بعد پھر سے نروانے جی نے وزیردفاع کو کال کیا اور کہا کہ آپ وزیراعظم سے پوچھئے اور آرڈر کردیجئے مجھے کیا کرنا چاہئے۔ یہ سوال اس لئے پوچھ رہے تھے کیونکہ چینی فوج پر قائم کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کو کرنا پڑتا ہے جنگ کا فیصلہ فوجی سربراہ نہیں لے سکتا ہے وہ فوجی فیصلہ نہیں ہوتا ہے وہ سیاسی فیصلہ ہوتا ہے وہ وزیراعظم لیتا ہے۔