ممبئی اور لکھنؤ میں آج برتری کا مقابلہ ، سوریا کمار توجہ کا مرکز

   

لکھنو۔ ممبئی انڈینس ٹورنمنٹ کے اختتام میں ایک روانی پر ہے اور لکھنؤ سوپر جائنٹس ( ایل ایس جی ) منگل کو یہاں آئی پی ایل میں ایک مشکل پچ پر حریف ٹیم کی اس رفتارکو روکنے کا ارادہ کرے گی۔ ممبئی انڈینز 14 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر ہے اور اسی تعداد سے ایک پوائنٹ کم کے ساتھ ایل ایس جی چوتھے نمبر پر ہے۔دونوں ٹیمیں خطرے کے زون سے باہر نکلنے کے لیے کامیابی حاصل کرنے کی کوشاں ہوں گی کیونکہ آٹھ ٹیمیں پلے آف کے مقابلے میں باقی ہیں۔ سوریا کمار یادو اپنی شاندار کارکردگی پر واپس آئے ہیں اور انہوں نے گزشتہ دوگیمز میں ممبئی کی جیت میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ٹورنمنٹ میں رنز کی کمی سے پریشان روہت شرما نے بھی گجرات جائنٹس کے خلاف کچھ فام حاصل کی ہے اور وہ اٹل بہاری واجپائی کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک قابل قدراننگزکھیلنے کے خواہاں ہوں گے۔تلکا ورما کی غیر موجودگی میں ممبئی کو نہال وڈیرہ کا ایک قابل متبادل مل گیا ہے، جو بڑے مقابلے پر ہر موقع کے ساتھ بہتر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔بولنگ کے محاذ پر تجربہ کار اسپنر پیوش چاولہ بیٹرس کے لیے زندگی کو مشکل بنا رہے ہیں جبکہ آکاش بدھوال نے تیز رفتار بولنگکو بہت ضروری فروغ دیا ہے۔ڈیتھ بولنگ جوفرا آرچر کے متبادل کرس جارڈن کے آخری دومقابلوں میں رنز دینیکے باعث تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہاں ایک اورکم اسکورنگ مقابلہ ہونے کی امید ہے اور دونوں طرف کے اسپنر مقابلے کی قسمت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیگ اسپنر روی بشنوئی ایل ایس جی کے لیے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر رہے ہیں اورکپتان کرنل پانڈیا نے بھی دکھایا کہ وہ سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف اپنے بائیں ہاتھ کے اسپن سے کیا کرسکتے ہیں۔ تجربہ کار اسپنر امیت مشرا کے بھی حالات کو دیکھتے ہوئے مقابلے میں شمولیت کی امید ہے۔ فاسٹ بولرکافی مہنگے ثابت ہوئے ہیں خاص طور پر اویس خان، جن کا نو میچز کے بعد اکانومی ریٹ 9.75 ہے۔ زخمی کے ایل راہول کی عدم موجودگی کے باوجود بیٹنگ زبردست دکھائی دے رہی ہے۔ کوئنٹن ڈی کوک نے فوری طور پر اثر دکھایا ہے کیونکہ راہول کے متبادل کے طور پر سب سے اوپر اہم بیٹر کی ضرورت ہے جبکہ کائل میئرز ایل ایس جی کے لئے ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ پھر ان کے پاس ایسے کھلاڑی ہیں جو مایوس کن صورتحال سے بھی کھیل جیت سکتے ہیں، جیسا کہ نکولس پوران نے سن رائزرز کے خلاف کیا تھا۔ پریرک مانکڈ نے آخری مقابلے میں دکھایا کہ وہ تیسرے نمبر پرکیا صلاحیت رکھتے ہیں اور منگل کی رات اضافی اعتماد کے ساتھ میدان میں آئیں گے۔