دھرم شالہ، 18 جنوری (یو این آئی)بی جے پی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت خوشامد کی پالیسی اپنا رہی ہے جس سے ریاست میں علیحدگی پسندی بڑھ رہی ہے ۔ بی جے پی کی ہماچل پردیش یونٹ کے ترجمان سنجے شرما نے ہفتہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روحانیت، تپسیا اور قربانی کی روایتی سرزمین، بنگال، اب حکمرانی کے ایک ایسے دور کا مشاہدہ کر رہی ہے جو مبینہ طور پر اسے ‘بنگ بھنگ’ یا بنگال کی تقسیم کی طرف لے جا رہا ہے ۔ شرما نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں’خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر)’ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے غیر آئینی طریقے اور تشدد کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخاب سے وابستہ حکام کو شدید دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے کچھ افسران خودکشی جیسے انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ترجمان نے جادھو پور اسمبلی حلقہ کے بوتھ لیول آفیسر اشوک داس کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے والے ایک ایماندار افسر کو ترنمول کانگریس کے کارکنوں سے دھمکیاں ملیں۔ انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ اگر ووٹرفہرست سے دراندازوں کے نام نکالے گئے تو انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ شرما نے ترنمول لیڈر منیر الاسلام کی موجودگی میں ایک بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کے دفتر پر ہونے والے مبینہ حملے کا بھی حوالہ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازوں سے جڑا ہوا ہے ۔