منقسم یورپی یونین کا غزہ جنگ پر اسرائیل کیخلاف کارروائی پر غور

   

برسلز : 16 جولائی ( ایجنسیز ) یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے منگل کو غزہ کی جنگ پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لیے مختلف متبادل پر غور کیا، تاہم اس پر اتفاقِ رائے کا امکان کم ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے فریقین کے درمیان تعاون کے معاہدے کی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کے بعد 10 ممکنہ اقدامات پیش کیے ہیں۔اِن میں پورا معاہدہ معطل کرنے یا تجارتی تعلقات کو روکنے سے لے کر اسرائیلی وزرا پر پابندیاں عائد کرنے، ہتھیاروں پر پابندی لگانے اور بغیر ویزہ سفر کو روکنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔غزہ میں ہونے والی تباہی پر بڑھتے ہوئے غم و غصے کے باوجود یورپی یونین کے ممالک اس بات پر منقسم ہیں کہ اسرائیل سے کیسے نمٹا جائے اور سفارت کاروں کے مطابق ’ان میں کسی بھی اقدام کے لیے کوئی اتفاق رائے نظر نہیں آتا۔‘برسلز میں وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کایا کالاس کا کہنا تھا کہ ’میں یہ پیش گوئی نہیں کر سکتی کہ بات چیت کیسی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز ہو گی کہ یورپی یونین غزہ میں جاری انسانی بحران سے نمٹنے میں کس طرح بہتری لا سکتی ہے۔غزہ کے 20 لاکھ رہائشیوں کو سنگین مسائل اور بحران کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے ساتھ لڑائی کے دوران علاقے میں امداد کی ترسیل کو سختی سے محدود کر رکھا ہے۔پیر کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ’سرحدی گزرگاہوں کو کھولنے کی بات سے ہمیں کچھ مثبت علامات نظر آتی ہیں۔