نئی دہلی: ای ڈی نے اترپردیش کے باہوبلی لیڈر مختار انصاری کے خلاف نیا معاملہ درج کیا ہے۔ یہ مقدمہ منی لانڈرنگ کیس میں درج کیا گیا ہے اور اس میں ان کے بڑے بھائی افضل انصاری بھی ملوث ہیں۔ حال ہی میں یوپی پولیس نے مختار انصاری کے خلاف 50ویں ایف آئی آر درج کی ہے اور افضل انصاری (جو رکنِ پارلیمان بھی ہیں) کی جائیداد ضبط کی ہے۔ یہ کرکی اترپردیش گینگسٹر ایکٹ کے تحت ہوئی اور 14 کروڑ روپے کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی گئی۔ 2021 کے بعد مختار انصاری کے خلاف یہ دوسرا پی ایم ایل اے کیس ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختار انصار کے رشتہ داروں اور ان کے ٹھکانے پر بھی ای ڈی کے چھاپے جاری ہیں۔ کل 11 مقامات پر یہ چھاپے ماری جاری ہیں۔وفاقی ایجنسی پانچ بار سابق رکن اسمبلی کے خلاف کم از کم 49 فوجداری مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے، جن میں زمینوں پر قبضے، قتل اور بھتہ خوری کے الزامات شامل ہیں۔