منی پور میں پھرصورتحال کشیدہ، پانچ اضلاع میں کرفیو‘ انٹرنیٹ بند

,

   

میتی برادری کے قائد ارم بائی ٹینگول کی گرفتاری کے بعدحالات خراب

امپھال۔8؍جون (ایجنسیز )منی پور کے پانچ اضلاع جن میں امپھال مغرب، امپھال مشرق، تھوبل، بشنو پور اور کاکچنگ میں ہفتہ کی رات 11.45 بجے سے کرفیونافذ کردیا گیا ہے اورانٹرنیٹ کے علاوہ موبائل ڈیٹا سروسز کو 5 دنوں کیلئے معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ میتی برادری کے ایک رہنما ارم بائی ٹینگول کی گرفتاری کے بعد کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ کچھ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعہ اشتعال انگیز پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز پھیلا سکتے ہیں جس سے امن خراب ہو سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔محکمہ داخلہ کے سکریٹری این اشوک کمار کے ذریعہ جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ہنگامی صورتحال میں پیشگی اطلاع کے بغیر لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی افواہ یا اشتعال انگیزی کو روکا جاسکے۔ حکم نامہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔درحقیقت، امپھال مشرقی اور مغربی اضلاع میں ہفتہ کی رات دیر گئے جب آرام بائی ٹینگول کو گرفتار کیا گیا تو زبردست احتجاج شروع ہوا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے صورتحال کو قابو میں لانے اور افواہوں پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ انتظامیہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے اور کسی بھی گمراہ کن اطلاعات پر بھروسہ نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ میڈیاکے مطابق منی پور کی راجدھانی امپھال کے کچھ علاقوں میں ہفتہ کی رات اس وقت مظاہرے شروع ہو گئے جب یہ خبر آئی کہ آرام بائی ٹینگول کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کواکائیتھل اور یوریپک علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر ٹائر اور پرانا فرنیچر جلا کر مظاہرہ کیا اور گرفتار رہنما کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ گرفتار شخص کون ہے اور اس پر کیا الزامات ہیں۔اسطرح ریاست میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوگئے ہیں ۔

آرام بائی تینگول نے 10روزہ منی پور بند کا کیا اعلان
امپھال، 8 جون (یو این آئی) منی پور کی سماجی و ثقافتی تنظیم آرام بائی تینگول نے مرکزی سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں اپنے لیڈر کانن اور دیگر چار ارکان کی گرفتاری کے خلاف اتوار سے 10 دن کے بند کا اعلان کیا ہے ۔اس گرفتاری کے بعد ریاست میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ۔ اب تک تقریباً پانچ گاڑیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک صحافی کو بھی زخم آئے ہیں۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے ریاستی حکومت نے پانچ دن کیلئے انٹرنیٹ خدمات بند کر دی ہیں اور غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے ۔