منی پور میں پھر تشدد، فائرنگ میں 4 افراد ہلاک

,

   

امپھال: منی پور میں 2 جولائی کو تشدد کے تازہ واقعات میں کم از کم چار افراد مارے گئے تھے۔ یہ واقعات بشنو پور اور چوراچند پور کے ملحقہ اضلاع کے علاقوں میں پیش آئے۔ پولیس نے کہا کہ بشنو پور میں دیہاتی ایک بلا اشتعال حملے میں مارے گئے۔بشنو پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیسنام بلرام سنگھ نے بتایا کہ 2 جولائی کی صبح میتی گاؤں کھجوما تابی کے قریب دیہاتیوں کی طرف سے بنائے گئے بنکروں پر مسلح بدمعاشوں نے حملہ کیا۔ بشنو پور ضلع کے کمبھی قصبے میں مسلح افراد کی فائرنگ میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔ گورنر انوسویا یوکی نے آج ایک بیان جاری کرکے کسانوں پر حملے کی مذمت کی۔ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کی نصف شب سے لنگوبی، چندول پوکپی اور سوکوم علاقوں میں قریبی پہاڑیوں سے شدید فائرنگ کی جارہی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے مرکزی فورسز سے مدد کی اپیل کی۔ کوکی اکثریتی پہاڑی علاقوں سے 3 مئی سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔دامن اور دیگر متاثرہ علاقوں میں رہنے والے تقریباً 50000 لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ گاوں کی حفاظت پر مامور کئی لوگ مارے گئے ہیں اور پہاڑیوں سے بار بار جدید ترین بندوقوں، سنائپرز اور مارٹروں کے استعمال سے دیہاتیوں کا واپس آنا ناممکن ہو گیا ہے۔گاؤں والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شرپسند مویشیوں کو بھی مار کر لے گئے۔ گائے اور دیگر جانوروں کے قتل کی بھی وادی کے مکینوں نے مخالفت کی تھی۔ وہ جانوروں سے پیار کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
کچھ رضاکار اب خالی گاووں کی رکھوالی کررہے ہیں کیونکہ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان کے گھر مکمل طور پر جلا دئے جائیں گے، موجودہ بدامنی کے آغاز سے اب تک 3000 سے زیادہ گھر جلا دئے ہیں۔ ریاست کے بیشتر حصوں میں چند گھنٹوں کی نرمی کے علاوہ کرفیو جاری رہا۔ چورا چاند پور ضلع میں بحران شروع ہونے کے بعد 3 مئی سے انٹرنیٹ معطل ہے۔