موبائل فونز اور ادویات پر اسرائیل کا نشان ہے ، امریکیوں کو انتباہ

   

تل ابیب، 16 ستمبر (یو این آئی) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی کانگریسی وفد سے کہا ہے کہ امریکیوں کو ان فوائد کو تسلیم کرنا چاہیے جو انہیں اسرائیل سے حاصل ہوتے ہیں، جیسے موبائل فون، ادویات اور خوراک۔ مغربی یروشلم میں بات کرتے ہوئے ، نیتن یاہو نے ان دعووں کو مسترد کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی اور اسلحے کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث بین الاقوامی تنقید کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا، “کچھ ممالک نے اسلحے کے پرزے بھیجنا بند کر دیے ہیں۔ کیا ہم اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں؟ جی ہاں، ہم نکل سکتے ہیں۔ ہم ہتھیار بنانے میں کافی ماہر ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “جیسے ہم انٹیلیجنس معلومات امریکہ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، اسی طرح ہم اپنے ہتھیاروں کے نظام بھی امریکہ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔” نیتن یاہو نے اسرائیل کو درپیش پابندیوں کے باوجود امریکی حمایت کی تعریف کی اور کہا، “ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ہمیں امریکہ کی مستقل حمایت حاصل ہے ، باوجود اس کے کہ کچھ لوگ اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” اسرائیلی برآمدات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ، نیتن یاہو نے وفد سے پوچھا: “کیا آپ کے پاس موبائل فون ہیں؟ آپ کے ہاتھ میں اسرائیل کا ایک حصہ ہے ۔ بہت سے موبائل فون، ادویات، اور خوراک – آپ چیری ٹماٹر کھاتے ہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ یہ کہاں بنایا گیا؟ مجھے چیری ٹماٹر پسند نہیں، لیکن یہ اسرائیلی پروڈکٹ ہے ، جیسا کہ بہت سی دوسری چیزیں۔انہوں نے ان مصنوعات کو تمام انسانیت کی بہتری کے لیے قرار دیا اور کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل “چیزیں بنا سکتا ہے اور پیداوار کر سکتا ہے ۔نیتن یاہو نے اصرار کیا کہ اسرائیل بالآخر غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کر کے زیادہ خود مختاری حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم بالآخر وہ خود مختاری پیدا کریں گے جس کی ہمیں ضرورت ہے تاکہ مغربی یورپ میں وہ لوگ جو ہمیں چیزیں دینے سے انکار کرتے ہیں، ناکام ہو جائیں۔ ہم اس محاصرے کو توڑ سکتے ہیں۔
اور ہم ایسا کریں گے ۔یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے باعث بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے ، جبکہ واشنگٹن اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کر رہا ہے ۔