مودی اور کے سی آر کی عوام دشمن پالیسیوں کے سبب معیشت تباہی کے دہانے پر

   

کانگریس قائدین کی گورنر سوندرا راجن سے ملاقات، پراجیکٹس میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 8 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس قائدین نے ریاستی گورنر ٹی سوندرا راجن سے ملاقات کرتے ہوئے نریندر مودی اور کے سی آر حکومت کی ناکامیوں کے خلاف یادداشت پیش کی۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی آر سی کنتیا کی قیادت میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، اے آئی سی سی سکریٹری بوس راجو، سابق وزیر این ششی دھر ریڈی صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی انجن کمار یادو، سابق اپوزیشن لیڈر اے جانا ریڈی، صدر ریاستی یوتھ کانگریس انیل کمار یادو، سابق رکن اسمبلی ایم کودنڈا ریڈی، اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون اور دیگر قائدین وفد میں شامل تھے۔ گورنر کو پیش کردہ یادداشت میں کانگریس قائدین نے کہا کہ نریندر مودی اور کے چندر شیکھر رائو جھوٹے وعدوں کے ذریعہ میڈیا کے سرخیوں میں رہنے کے ماہر ہیں لیکن وہ ملک کی معیشت کو تباہی سے بچانے میں ناکام ہوگئے جس کے نتیجہ میں عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ کانگریس قائدین نے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے معاشی امور کے ماہرین سے مشاورت کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے جی ایس ٹی کو مزید آسان بنانے، دیہی ترقی پر توجہ دینے، کسانوں کو امدادی قیمت کی ادائیگی، ٹیکس ٹائل آٹو موبائل الیکٹرانکس اور دیگر شعبہ جات میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے، عصری بینکنگ پالیسی کے ذریعہ چھوٹے اور متوسط کاروبار کے آغاز کے لیے امداد فراہم کرنے، ملک کی برآمدات میں اضافہ پر توجہ دینے اور انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ جیسی تجاویز پیش کی۔ کانگریس قائدین نے تلنگانہ میں مختلف پراجیکٹس میں کرپشن اور بے قاعدگیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نتیجہ میں معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے معیشت کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ نے معیشت کی تباہی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے جی ایس ٹی کو مزید آسان بنانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے چھوٹے اور متوسط تاجروں پر زبردست بوجھ عائد کیا ہے۔ ملک میں جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد تک گھٹ چکی ہے جو گزشتہ چھ برسوں میں سب سے کم ہے۔ مودی حکومت کے چھ برسوں میں بیروزگاری سنگین نوعیت اختیار کرچکی ہے اور لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوچکے ہیں۔ ہندوستانی آٹو موبائل انڈسٹری بحران سے دوچار ہے۔ جولائی 2019ء تک 3 لاکھ 50 ہزار افراد کو آٹو موبائل انڈسٹری میں روزگار سے علیحدہ کردیا گیا۔ کانگریس قائدین نے اندیشہ ظاہر کیا کہ حکومت ایم ٹی این ایل، ایچ اے ایل، بی ایچ ای ایل، ایرانڈیا، او این جی سی اور انڈین ریلویز جیسے اداروں کو خانگیانے کی تیاری کررہی ہے۔ نریندر مودی اور کے سی آر نے عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ نریندر مودی حکومت کے تمام فیصلوں کی کے سی آر نے تائید کی۔ ملک میں 5 ہزار سے زائد کسانوں نے خودکشی کرلی۔ گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے آر سی کنتیا نے کہا کہ مرکزی حکومت پھر ایک مرتبہ ملک کا سونا فروخت کرتے ہوئے حکومت چلانے پر غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم سرکاری اداروں کو خانگی شعبے کے حوالے کیا جارہا ہے۔ انتخابات سے قبل کئے گئے ایک بھی وعدے کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ملک میں بلاک منی کی واپسی اور ہر شخص کے اکائونٹ میں 15 لاکھ روپئے کا وعدہ انتخابی جملہ ثابت ہوا۔ آر سی کنتیا نے آر ٹی سی کو خانگیانے کی مخالفت کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی آر ٹی سی ملازمین کے احتجاج میں شریک ہے۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ملک کی معیشت کی ابتر صورتحال کے لیے نریندر مودی حکومت ذمہ دار ہے اور وہ صورتحال بہتر بنانے میں کے موقف میں نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے عوام سے کی گئی دھوکہ دہی کی تفصیلات سے گورنر کو واقف کرایا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے آر ٹی سی روٹس کو خانگیانے سے متعلق حکومت کے فیصلے پر ہائی کورٹ کے حکم التوا کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی سی ہڑتال کی تفصیلات سے گورنر کو واقف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دھمکیوں اور طاقت کے ذریعہ آر ٹی سی ہڑتال کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ بھٹی وکراماکار نے کل 9 نومبر کو آر ٹی سی جے اے سی کے چلو ٹینک بنڈ پروگرام کی تائید کا اعلان کیا۔