ملائیشیا میں صدر ٹرمپ موجود ہوں گے، وزیراعظم مودی کو الگ تھلگ ہوجانے کا اندیشہ، جے شنکر کی شرکت متوقع
نئی دہلی 23اکتوبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوالالمپور میں ہونے والی آسیان سربراہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وہ خود کو تنہا محسوس کریں گے ، اسی لیے وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آسیان سربراہ اجلاس 26 سے 28 اکتوبر تک کوالالمپور میں منعقد ہوگا، جس میں ہندوستان کی نمائندگی وزیرِ خارجہ ایس۔ جے شنکر کریں گے ۔ کانگریس کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ کئی دنوں سے یہ قیاس آرائیاں چل رہی تھیں کہ وزیراعظم اس اجلاس میں جائیں گے یا نہیں۔ اب طے نظر آ رہا ہے کہ وہ نہیں جائیں گے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ گلے ملنے ، تصویریں کھنچوانے اور خود کو ’وشو گرو‘کہلوانے کے کئی مواقع ضائع ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ مودی جی کے نہ جانے کی وجہ صاف ہے ، وہاں صدر ٹرمپ موجود ہوں گے اور مودی جی ان کے سامنے خود کو الگ تھلگ محسوس نہیں کرانا چاہتے ۔ چند ہفتے پہلے انہوں نے مصر میں غزہ امن سربراہ اجلاس میں شامل ہونے کا دعوت نامہ بھی اسی وجہ سے مسترد کر دیا تھا۔کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی تعریف میں پیغامات پوسٹ کرنا ایک بات ہے ، لیکن ان کے ساتھ قریبی تعلقات بنانا دوسری بات ہے اور یہ آسان نہیں ہوگا اُس شخص کے ساتھ جس نے 53 بار ’آپریشن سندور‘رکوانے اور پانچ بار ہندوستان کو روس سے تیل خریدنا بند کرنے کا وعدہ کرنے جیسے دعوے کئے ہیں۔ یہ ایک طرح سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے ۔ کانگریس رہنما نے طنز کرتے ہوئے کہا، وزیراعظم شاید اُس پرانے بالی ووڈ ہٹ گانے کو یاد کر رہے ہوں گے ، بچ کے رہنا رے بابا، بچ کے رہنا رے ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے آج سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ اس اجلاس میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل ہوں گے ۔ پی ایم مودی نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے فون پر بات کی اور اجلاس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔
مسلمانوں کی شراکت کے بغیر محض فاشزم کا خوف دلاکر ووٹ حاصل نہیں کیا جاسکتا:کانگریس
نئی دہلی،23 اکتوبر (یو این آئی) بہار میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخاب میں مہاگٹھ بندھن اور دیگر سیکولر جماعتوں پر مسلمانوں کوان کی آبادی کے حساب سے نشست نہ دینے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سماجی کارکن اور کانگریس کے سینئر لیڈر ساجد ملک نے کہاکہ مناسب حصہ داری کے بغیر محض فاشزم کا خوف دلاکر مسلمانوں کا ووٹ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ بہار میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 18فیصد ہے اور اس کے حساب سے اسمبلی میں 46نشستیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاگٹھبندن میں سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے محض 18 سیٹ دی ہے جب کہ کانگریس نے 10سیٹوں پر اکتفا کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ مہا گٹھبندھن میں شامل تمام پارٹیا ں مل کر 46 نشستیں دیتیں۔ انہوں نے کہاکہ بہار میں یادو، کرمی، بھومیہار،برہمن، ٹھاکر اور دیگر ذات والے کو ان کی تناسب سے بہت زیادہ نشستیں دی گئی ہیں جب کہ مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ لوک سبھا کا الیکشن یا راجیہ سبھاکایا ایم ایل سی کا ہو، ہمیشہ مسلمانوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کا بھی یہی نعرہ ہے کہ ‘جس کی جتنی بھاگیداری اس کی اتنی حصہ داری‘۔ پھر مسلمانوں کو انتخابات میں ٹکٹ دینے میں اس فارمولا پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ بہت سے ایسی سیٹوں پر جہاں مسلمان آسانی کامیاب ہوسکتے تھے لیکن مسلمانوں کا ٹکٹ کاٹ کر دوسروں دے دیا گیا۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہ نوادہ سے سیٹنگ ایم ایل اے کامران کی سیٹ آر جے ڈی نے کاٹ کر دوسروں کو دے دی جب کہ کامران اور اچھی خاصی ووٹ سے کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے وہاں کے دلوں میں جگہ بنالی تھی جس کا ثبوت ان کاغذات نامزدگی میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے ۔ اسی طرح جالے سیٹ سے مشکور عثمانی کا ٹکٹ کر دوسروں کو دے دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مہاگٹھبندھن میں شامل وکاس شیل انسان پارٹی نے اپنے کوٹے سے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے میں شامل سیکولر پارٹیوں میں جنتا دل یونائٹیڈ نے محض چار مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے جب کہ چراغ پاسوان نے صرف ایک مسلمان کو ووٹ دیا ہے ۔ مسٹر ساجد ملک نے کہاکہ مسلمانوں کے تئیں سیکولر پارٹیوں کے رو یہ نہایت مایوس کن ہے اورسیکولر پارٹیاں مسلم ووٹ کو اپنا جاگیر سمجھ رہی ہیں اس لے مناسب شراکت دینے سے گریز کیا ہے ۔انہوں نے دعوی کیاکہ اس طرح پارٹیوں نے مسلمانوں کو حاشیہ پر دھکیلنے اور اس کی نمائندگی کم کرنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کہاکہ کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو اور دیگر سیکولر پارٹیاں کب تک بی جے پی سے خوف دلاکر مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرتی رہیں گی اور شراکت کے بجائے مسلما نوں کی نمائندگی کم کرتی رہیں گی۔اس بارے میں مسلمانوں کو غور وخوض کرنا چاہئے ۔
مدھیہ پردیش میں لا اینڈ آرڈر پر کانگریس کی تنقید
بھوپال 23 اکتوبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ریاست میں مجرموں کو کس کی سرپرستی حاصل ہے ۔ پٹواری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پنا ضلع میں غیر ارادی قتل کے ملزم پنچم یادو نے 40-50 افراد کے ہمراہ پولیس ٹیم پر کلہاڑیوں سے حملہ کر دیا۔ تھانیدار اور کانسٹیبل کو یرغمال بنا لیا گیا۔ حملے کے بعد آٹھ پولیس اہلکاروں کو اپنے ہتھیار چھوڑ کر موقع سے فرار ہونا پڑا۔