مودی حکومت نے مہنگائی عوام کو نئے سال کے تحفہ کے طور پر پیش کیا

   

دونوں ملک کیلئے خطرہ، گاندھی بھون میں اے آئی سی سی ترجمان موہن پرکاش کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ یکم ؍ جنوری (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان موہن پرکاش نے کہا مودی حکومت نے گذشتہ 7 سال کی طرح اس سال بھی عوام کو قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی نئے سال کے طور پر پیش کیا ہے۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی، اے آئی سی سی سکریٹری جی چناریڈی، اے آئی سی سی ترجمان ڈی شرون کے علاوے دوسرے موجود تھے۔ موہن پرکاش نے کہا کہ مودی حکومت کے غلط فیصلوں سے نئے سال 2022ء کے پہلے دن نئے افراط زر کے ساتھ سال 2021 ء کے بیشتر حصوں میں بیروزگاری کی شرح 7.5 فیصد سے زیادہ درج ہوئی ہے۔ ملک پر افراط زر کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ نومبر 2021ء میں 14.3 ڈبلیو پی آئی فیصد تھا جو پچھلے 10 سال کی سب سے بڑی ابتر صورتحال تھی۔ نئے سال جوتے، چپلوں کے علاوہ دوسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ اے ٹی ایم سے اپنی خود کی رقم نکالنا بھی مہنگا ثابت ہورہا ہے۔ مرکزی حکومت ٹیکسٹائیل انڈسٹری کے جی ایس ٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ کانگریس کے علاوہ دوسری اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت اور 5 ریاستوں کے مجوزہ انتخابات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے اس تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ جوتے چپلوں پر جی ایس ٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردیا گیا ہے جو عوام پر زیادہ مالی بوجھ ہے۔ اے ٹی ایم سے اپنے ذاتی پیسے نکالنے پر 21 پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔ اولا، اوبر و دیگر ایپس سے بک کرنے والی گاڑیاں اور آٹوز پر 5 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔ کار اور دوسری گاڑیوں کی قیمتوں میں 2.5 فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ سمنٹ کی قیمتوں پر اضافہ کردیا گیا ہے۔ لوہے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ایک تھیلہ سمنٹ کی قیمت میں 400 روپئے ایک، ایک ٹن لوہا کی خریدی پر 3000 تا 3500 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ 2014ء میں 71 روپئے فی لیٹر اور 56 روپئے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت تھی اب دونوں کی قیمتیں فی لیٹر 100 روپئے سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ 400 روپئے میں دستیاب ہونے والا پکوان گیس سلنڈر 1000 روپئے پہنچ گیا ہے۔ پکوان تیل 90 روپئے سے بڑھا کر 250 روپئے تک پہنچ گیا ہے۔ دالوں کی قیمت 60 روپئے سے بڑھکر 150 روپئے تک پہنچ گئی ہے۔ مودی اور مہنگائی دونوں ملک کیلئے خطرہ ہے۔ن