مودی حکومت پر ووٹر لسٹ میں جعلسازی کا سنگین الزام

   

Ferty9 Clinic

ہر ووٹر کا نام حذف کرنے 80 روپے فی کس ادا کئے گئے، خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پردہ فاش کردیا

نئی دہلی ۔ 25 اکتوبر (ایجنسیز) ملک کے کرنالہ ضلع میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی رپورٹ نے 2023 کے انتخابات کے موقع پر ووٹر لسٹ میں کیے گئے بڑے پیمانے پر رد و بدل اور نام حذف کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 75 موبائل نمبرز کے ذریعہ الیکشن کمیشن کے پورٹل پر جعلی اکاؤنٹس کے تحت درخواستیں دی گئیں۔ اس کارروائی میں ضلع کلبرگی کے ایک ڈیٹا سینٹر سے لیپ ٹاپ اور دیگر آلات ضبط کیے گئے۔ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ کرناٹک کے الند حلقے میں ڈیڑھ سال کے عرصہ میں ہر ووٹر کا نام حذف کروانے کے لیے 80 روپے فی درخواست کی ادائیگی کی گئی، جس سے اس منظم مہم کی مالیت تقریباً 4.8 لاکھ روپئے بنتی ہے۔ ڈسمبر 2022 تا فروری 2023 کے دوران حملہ6,018 جعلی درخواستیں الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئیں۔ ان میں سے صرف 24 درخواستیں ان افراد کی جانب سے تھیں جنہوں نے خود اپنی درخواستیں دی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے قائدین سبھاش گٹیدار، ہرشنند اور سنتوش کے گھروں سے سات لیپ ٹاپس اور متعدد دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔ کانگریس کے رہنما رہول گاندھی نے اس رپورٹ کو ’’ووٹ چوری‘‘ کا اعتراف قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ بلاک بی جے پی دور میں ہر ووٹر کو 80 روپئے فی نام کے حساب سے خریدوفروخت کا حصہ تھی، جو جمہوریت کی توہین ہے۔ کانگریس ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ یہ رپورٹ ووٹر لسٹ میں کی گئی ہیراپھیری کی ایک منظم اور فنڈڈ مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹ کے ذریعے منظم دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے ساتھ گٹھ جوڑ مودی حکومت کا سیاسی ہتھکنڈہہے۔ یہ رپورٹ کی 2024 کی لوک سبھا انتخابات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جہاں کرناٹک کے مہادیو پورہ حلقہ میں کانگریس کی جانب سے 1 لاکھ سے زائد جعلی ووٹروں کا الزام عائد کیا گیا ہے، اور الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں وضاحت طلب کی ہے۔